کامسٹیک کے زیر اہتمام ریسرچ کمرشلائزیشن: چیلنجز اور مواقع کے موضوع پر بین الاقوامی ورکشاپ اور نمائش کا انعقاد

23

اسلام آباد، 14 جون (ے پی پی ): کامسٹیک کے زیر اہتمام ریسرچ کمرشلائزیشن: چیلنجز اور مواقع کے موضوع پر بین الاقوامی ورکشاپ اور نمائش کا انعقاد کیا گیا۔

کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک پروفیسر چودھری نے  کہا کہ اس ورکشاپ کا موضوع تحقیق کی کمرشلائزیشن کے لیے موجود مواقع کے ساتھ ساتھ ان چیلنجز کو سمجھنا ہے جو ہمارے تمام رکن ممالک کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سب آج کے دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے سماجی اور اقتصادی ترقی میں کردار سے واقف ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ زیادہ تر ریاستوں میں تحقیق ہو رہی ہے جس کا ثبوت او آئی سی کے رکن ممالک سے نکلنے والی سائنس کی اشاعتوں میں تیزی سے اضافے سے پتا چلتا ہے۔ تاہم، ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ سائنسی تحقیق کو نئی مصنوعات میں کیسے تبدیل کیا جائے۔

پروفیسر چودھری نے صحیح اور پائیدار پالیسیاں بنانے اور کاروباری اور تعلیمی اداروں کا کنسورشیا قائم کرنے کی تجویز دی تاکہ اہداف کے حصول کے لیے مل کر کام کیا جاسکے۔

ملائشیا سے تعلق رکھنے والے مشہور سائنس مشیر، پروفیسر ذکری عبدالحامد، سائنس ایڈوائزر آسیان  نے او آئی سی ممالک کے لیے کامسٹیک کی سرگرمیوں کو سراہا۔

ٹنماک کے نائب صدر، توانائی، جوہری اور کان کنی کی تحقیقاتی ایجنسی اور ٹیوبیٹیک کے صدر کے مشیر پروفیسر ڈاکٹر آرکن حسیکوگلو نے کہا کہ کچھ سال پہلے ہم نے آستانہ اعلامیہ کو عملی جامہ پہنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ۔

استنبول میڈیپول یونیورسٹی میں ڈسکوری اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر مصطفیٰ گوزیل اور میڈیکل فارماکولوجی ڈیپارٹمنٹ اور انٹرنیشنل فیکلٹی آف میڈیسن ترکی کے چیئرمین پروفیسر گوزیل نے کہا کہ آج تحقیق کے لیے فنڈز تلاش کرنا واقعی مشکل ہے۔ ان سرمایہ کاروں کا ملنا مشکل ہے جو ایک اختراعی پروڈکٹ تیار کرنے کے لیے تحقیق کرنے کے لیے آپ کے خیال کی حمایت کرتے ہوں۔ انہوں نے خود کفیل بننے کے لئے ایک دوسرے کو سپورٹ کرنے اور ٹیمیں بنا کر کام کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی عادات پر نظر ثانی کرنے، ایک دوسرے سے بات کرنے اور برف کو پگھلانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم الحق نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں علم کے حصول کے لیے ایک جامع نقطہ نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنس کلچر سائنس لا سکتا ہے، اسے ترقی دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ہمیں ماہر ڈیٹا تجزیہ کار تیار کرنے اور مقامی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے۔

اگنائیٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عاصم شہریار حسین نے افتتاحی سیشن میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے ہنر مند فری لانسر پیدا کرنے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں صلاحیتوں کو فروغ دینے کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے بتایا کہ اگنائیٹ کے تربیت یافتہ فری لانسرز نے 300 ملین امریکی ڈالر کمائے ہیں۔

مشیر سائنس، کامسٹیک ڈاکٹر سید خورشید حسنین نے افتتاحی کلمات میں بتایا کہ اس افتتاحی سیشن میں دو سو سے زائد افراد ذاتی طور پر شریک ہیں جن میں ترکی، برکینا فاسو، ملائشیا، کیمروں، اور نائیجیریا سے سکالرز شامل ہیں جبکہ تین سو افراد آن لائن مختلف او آئی سی ممبر ممالک سے شرکت کر رہے ہیں۔  اس دو روزہ ورکشاپ میں بائیس ماہرین لیکچر دے رہے ہیں اور سائنسی نمائش میں پندرہ اداروں نے اپنی مصنوعات کے نمائش کے لئے اسٹال لگا رکھے ہیں۔