لاہور24جون ( اے پی پی ): صوبائی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ حمزہ شہبا ز کی قیادت میں پنجاب حکومت نے سول سوسائٹی کی تجاویز کی روشنی میں ایک ایسا نیا بلدیاتی نظام دیاہے جس سے پاکستان میں جمہوریت کی بنیادیں مضبوط ہوں گی اور صحیح معنوں میں اقتدار اور اختیار عوام کو منتقل ہو گا۔ 2019ء اور 2021ء کے قوانین کو جس طریقے سے متعارف کروایا گیا اس پر جمہوریت پسندوں کو شدید تحفظات تھے۔ یہ قوانین سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں یا متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کیے بغیر غیر جمہوری انداز میں متعارف کرائے گئے۔ جبکہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022ء سٹیک ہولڈرز کے ساتھ وسیع مشاورت اور عام لوگوں سے موصول ہونے والے تاثرات کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہار آج 90شاہرہ قائد اعظم پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزراء ملک احمد خان اور عطا ء اللہ تارڑ بھی اس موقع پر موجود تھے۔صوبائی وزیر نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022ء کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 5بڑے شہروں لاہور، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ اور راولپنڈی جبکہ 4ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز سرگودھا بہاولپور، ساہیوال اور ڈیرہ غازی خان میں 9میٹرو پولیٹن کارپویشنز ہوں گی جبکہ 14نئی میونسپل کارپوریشنز بنائی جائیں گی۔ 234میونسپل کمیٹیاں اور 20ہزار سے اڑھائی لاکھ کے درمیان تمام شہر آزاد شہر ہوں گے۔ایکٹ کے تحت پنجاب کے دیہی علاقوں کیلئے بنیادی میونسپل کاموں کو انجام دینے کیلئے تحصیل کونسلوں کو بحال کیا گیا ہے۔اب یو سی کے وائس چیئر مین متعلقہ تحصیل کونسل کے ممبر ہوں گے۔یونین کونسلز کے بنیادی یونٹ کو بحال کر کے مالی طور پر مستحکم کیا گیا ہے۔ایف سی سی کا 10 فیصد تقریباََ 55ارب روپے، فی یونین کونسل 11لاکھ روپے براہ راست یونین کونسلوں کوجائے گاجس سے وہ مقامی سطح پر بنیادی ترقی اور کمیونٹی کی ضرورت کو پور ا کر سکیں گے۔ صوبائی محکمے پرائمری ہیلتھ، پرائمری ایجوکیشن، سوشل ویلفیئر، فیملی پلاننگ، کھیل، ٹرانسپورٹ، سول ڈیفنس، پبلک ہیلتھ، آرٹس اینڈ کلچر او ر سیاحت ضلعی سطح کی مقامی حکومتوں کو منتقل کر دیئے گئے ہیں۔پارلیمانی جمہوریت کی روایات کے مطابق موثر جمہوری طرز حکمرانی اور مضبوط چیک اینڈ بیلنس کو یقینی بنانے کیلئے پاکستان کے پارلیمانی جمہوری ڈھانچے کے مطابق ایل جیز کی تمام سطحوں پر کونسل کا نظام بحال کیا گیا ہے۔مقامی سطح پر سیاسی جماعتوں کو مضبوط کرنے اور ہارس ٹریڈنگ کی حوصلہ شکنی کیلئے انحراف کی شک متعارف کرائی گئی ہے۔ شو آف ہینڈز کے ذریعے صوبائی اور قومی مقننہ کے مطابق سربراہان کا انتخاب ہو گا اور انہیں ہٹایا جا سکے گا۔پہلے دو سالوں میں جنرل ریو نیو رسیپٹس (محصولات) کا 26فیصد اور تیسرے سال کے بعد GRRکا 28فیصد(تقریباََ 55ارب روپے) مقامی حکومتوں کو براہ ِراست منتقل ہو گا۔مقامی حکومتوں کے اعلیٰ درجوں میں خواتین ممبران کی نمائندگی 33فیصد تک ہو گی جبکہ مقامی حکومتوں کے تمام درجوں میں نوجوانوں کیلئے مخصوص نشستیں ہوں گی۔ ایکٹ کے مطابق LGکے سربراہوں کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ ایک پینل سے افسرا ن کا انتخاب کریں او ر انہیں واپس بورڈ کے حوالے کریں۔ایل جی، سول ایڈ منسٹریشن، پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کی ٹیم ورک اور اجتماعی کارروائی کو فروغ دینے کیلئے ڈسٹرکٹ میونسپل فورم بنایا جائے گا۔مقامی حکومتوں کے سربراہ کابینہ تشکیل دیں سکیں گے۔ 1/3کابینہ ٹیکنوکریٹس /ماہرین پر مشتمل ہوگی۔ پنجاب لوکل گورنمنٹ کمیشن کو مضبوط بنایا جائے گااور یہ کمیشن تمام تنازعات کی ثالثی کرے گااور ان کی خود مختاری کے تحفظ کیلئے ایل جی کے سرپرست کے طور پر کام کرے گا۔ یہ کمیشن مقامی حکومتوں کے کام میں رکاوٹوں کو دور کرے گا۔آڈٹ اور انکوائریاں بھی کروا سکے گا۔مقامی حکومتوں کی انتظامی اور تکنیکی صلاحیت کومضبوط بنانے کیلئے BS-11سے او پر کی تمام بھرتیاں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مسابقتی اور شفاف طریقے سے ہوں گی۔ایکٹ کے تحت مقامی حکومتوں کے پبلک سروس کمیشن کے افسران کو ریگولر کیا جائے گا۔ مقامی حکومتوں کے معاملات کو جلد نمٹانے اور خود مختاری و انصاف کو یقینی بنانے کیلئے لوکل گورنمنٹ اپیل ٹر بیونل کی تشکیل کی جائے گی۔پنجاب کے 5بڑے شہروں لاہور، فیصل آباد، ملتان اور راولپنڈی میں ٹاؤن کونسلز ہوں گی تا کہ شہر بھر میں بنیادی بلدیاتی خدمات کی برابر ی کو یقینی بنایا جا سکے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت نے ایسا بلدیاتی نظام دیا ہے جس کے تحت اب دارالحکومت میں 15 یا 20 لوگ بیٹھ کر حکومت کرنے کی بجائے 50ہزار سے زائد لوگوں کے نمائندے حکومت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جلد مقامی حکومتوں کے قیام کو یقینی بنائیں گے اور جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو مستحکم کریں گے۔ صوبائی وزیر قانون ملک احمد خان نے کہا کہ پنجاب میں صفائی کا بہتر اور مضوط نظام دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے2019ء میں قائم کردہ 11ٹال پلازے ختم کر دیئے ہیں جو حکومت کا بڑا اقدام ہے۔صوبائی وزیر عطا ء اللہ تارڑ نے کہا کہ نیک نیتی اور ایمانداری کا لبادہ اوڑنے والے شخص عمران خان نے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے اور اداروں پر حملہ آور ہو رہا ہے۔عمران صاحب آپ کا دامن داغ دار ہے آپ نے منی لانڈرنگ کی ہے، قوم کا پیسہ لوٹا ہے اور آپ کو اس کا حساب بھی دینا ہوگا۔آپ نے فرح گوگی کو وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے اختیارات دے رکھے تھے اپنا اقتدار ختم ہونے سے چند دن قبل آپ نے اسے فرار کر ا دیا۔انہوں نے کہا کہ پر امن احتجاج سب کا حق ہے اگر کسی نے امن عامہ میں خلل ڈالا یا آمدو رفت میں رکاوٹ پیدا کی تو قانون حرکت میں آئے گا۔ صوبائی وزیر قانون ملک احمد خان کی میڈیا سے گفتگو عوامی تکالیف کو ختم کرنے کے لیے پنجاب سے 11 ٹول پلازہ فوری طور پر ختم کر رہے ہیں











