اسلام آباد،25جون (اے پی پی):نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) اور انقرہ سینٹر آف تھاٹ اینڈ ریسرچ کے تعاون سےپاکستان اور ترکی کے درمیان اقتصادی، سماجی اور سیاسی تعلقات پر مشترکہ کانفرنس کا انعقاد ہفتہ کو یہاں نسٹ میں ہوا۔ اقتصادی، مالیاتی، تجارتی اور بین الاقوامی تعاون کے مواقع، ترقی پر اسلامی اقتصادیات اور مالیات کا کرداراور پاکستان اور ترکی کے درمیان سماجی اور ثقافتی تعلقات،پاکستان اور ترکی کے تعلقات کی تاریخ پر مبنی، کانفرنس کے اہم موضوعات تھے۔
نسٹ کے پرو ریکٹر ’’ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن‘‘ ڈاکٹر رضوان ریاض نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور استقبالیہ کلمات سے کانفرنس کا آغاز کیا۔ انہوں نے “ترکی ہمارا برادر ملک” کہہ کر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔
پاکستان میں ترکی کی ناظم الامور ایسرا سین نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی تشکیل متحدہ ہندوستان کے زمانے سے کی جا سکتی ہے جب پاکستان کی تحریک چل رہی تھی۔
کانفرنس کے مقررین نے ترکی اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعاون پر نئی تحقیق کو تحریک دینے اور وسعت کے لیے روڈ میپ فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں ترکی اور پاکستان کے مفادات بہت سے اہم معاملات پر ایک دوسرے سے ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ نصف صدی سے زیادہ عرصے تک ترکی اور پاکستان گہرے دوست رہے۔ ان کے کثیر جہتی تعلقات نے بھائی چارے کا وہی جذبہ ظاہر کیا جو ہندوستانی مسلمانوں اور سلطنت عثمانیہ اور بعد میں جمہوریہ ترکی کے درمیان صدیوں پرانے تعلقات کے دوران غالب تھا ، تاہم، نظریاتی طور پروہ ایک دوسرے سے الگ تھے۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں امید ہے کہ عالمی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان اور ترکی کے تعلقات میں اقتصادی تعامل مرکزی حیثیت اختیار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی طلباکی بڑی تعداد ترکی کی یونیورسٹیوں کے وظائف سے فائدہ اٹھاتی ہے ، تاہم پاکستان کے تعلیمی اداروں میں آنے والے ترک طلباء تناسب بہت کم ہے اور روابط قائم کرنے کے لیے تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اطراف سے ثقافتی گروپوں کے تبادلے کے ساتھ ساتھ سیاحت کی صنعت کو اس سلسلے میں پہل کرنے کی ترغیب دے کر عوام کے دوطرفہ روابط بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔











