آئین کے تحت مقننہ اور عدلیہ سمیت تمام اداروں کے اختیارات اور ان کا کردار  متعین ہے، پاکستان کو عظیم تر بنائیں گے اورفسطائیت کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،وزیراعظم کا قومی اسمبلی میں خطاب

37

اسلام آباد۔27جولائی  (اے پی پی):وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ  1973ء کا آئین ملک کی وحدت کی علامت ہے،  آئین کے تحت مقننہ اور عدلیہ سمیت تمام اداروں کے اختیارات اور ان کا کردار  متعین ہے،  پاکستان کو عظیم تر بنائیں گے اورفسطائیت کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،یہ گردن کٹ تو سکتی ہے مگر کسی کے سامنے جھک نہیں سکتی۔  جب تک پارٹی اور عوام کا اعتماد حاصل ہے میں ملک کو مسائل سے نکالنے کے لئے اپنی بھرپور کوشش کرتا رہوں گا۔  مشکل ترین حالات میں اتحادی جماعتوں کے اصرار پر سیاست کو بچانے کی بجائے ریاست کو بچانے کے لئے وزارت عظمیٰ کا منصب قبول کیا،  جوآٹھ سال تک دن رات چور اور ڈاکو کا راگ الاپتا رہا لیکن وہ  ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہ کر سکے،  اگر ہم نے سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ نہ کہا تو خدانخواستہ یہ ملک شدید مشکلات میں گھِرجائے گا، اللہ کی مہربانی اور اس ایوان کی مدد سے ملک کو مسائل سے نکالنے کے لئے اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا، اگر ہم میں اتحاد، یکسوئی اور جذبہ رہا تو ہم ان مسائل سے ملک کو نکالیں گے۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان بھر میں طوفانی بارشوں نے ہر جگہ تباہی پھیلائی، بلوچستان، کراچی، سندھ،کے پی،  پنجاب اور چترال سمیت دیگر علاقوں میں بے پناہ انسانی جانوں کا ضیاع اور نقصانات ہوئے۔ اللہ تعالیٰ تمام مرحومین کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت یابی عطا فرمائے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے مخلوط حکومت پوری طرح آگاہ ہے، چاروں صوبوں کے ساتھ میٹنگز کر چکا ہوں، جہاں جہاں لوگ جاں بحق ہوئے، لوگوں کی املاک کو نقصانات پہنچے وہاں تمام صوبائی حکومتیں امدادی کارروائیاں کر رہی ہیں، وفاقی حکومت بھی این ڈی ایم اے کے ذریعے امدادی کارروائیوں میں شریک ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جتنی بھی رقم زیادہ ہو کسی انسانی جان کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ وفاقی حکومت مالی امداد میں پیچھے نہیں ہٹے گی اور امدادی پیکج میں مزید اضافہ کریں گے، کل اس سلسلے میں اجلاس طلب کیا ہے، اجلاس کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے امدادی رقم کا اعلان کریں گے۔ کسانوں کے جھل مگسی، کوئٹہ، ژوب، چمن، ٹانک، کراچی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں جو جو نقصانات ہوئے ان کا ازالہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی فطرت ہے کہ بچے کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بچہ ماں کے پاس آتا اور ماں بچے کے پاس آتی ہے۔ تمام ادارے اس ایوان کی کوکھ سے نکلے ہیں، یہ ایوان ماں کی حیثیت رکھتا ہے۔ 1973ء کا آئین ذوالفقار علی بھٹو کی زیر قیادت مرتب کیا گیا، یہ آئین ملک کی وحدت کی بہت بڑی نشانی ہے، بدترین وقتوں میں اس آئین نے دنیا کے سامنے پاکستان کو مضبوط اور متحد طور پر پیش کیا اور صدیوں تک یہ آئین ملک کو مضبوط کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ حاکمیت اللہ کی ہے اور وہی مالک اور خالق ہے اور جو اختیار اللہ نے ملک کے 22 کروڑ عوام کے اس نمائندہ ایوان کو دیا ہے وہ مقدس امانت کے طور پر یہ ایوان استعمال کرتا ہے۔