مظفرگڑھ، یکم اگست(اے پی پی):ڈپٹی کمشنر علی عنان قمر نے کہا ہے کہ حالیہ بارشیوں اور بھارت کی طرف سے آنے والے پانی کی وجہ سے دریائے چناب اور دریائے سندھ میں سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ ادارے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ دریاؤں سے ملحقہ نشیبی علاقوں کے مکینوں کا انخلاء جاری ہے جس کے لئے اعلانات کرائے جارہے ہیں تاکہ جانی ومالی نقصانات سے بچا جا سکے۔
یہ بات انہوں نے ضلع میں سیلابی صورتحال پر ضلعی محکموں کے افسران کے ساتھ ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ اس وقت دریائے سندھ میں نچلے درجے کا سیلاب ہے، ہیڈ تونسہ کے مقام پر پانی کی آمد 2لاکھ 98ہزار900کیوسک اور اخراج 2لاکھ92ہزار900کیوسک ہے، دریائے چناب میں تریموں کے مقام پر پانی کی آمد 1لاکھ 10ہزار584کیوسک ہے اور اخراج 1لاکھ 2ہزار584کیوسک ہے جبکہ ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کی آمد 97ہزار42کیوسک اور اخراج 91ہزار643کیوسک ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے افسران کو ہدایت کی کہ متاثرین سیلاب کے لئے لگائے ریلیف کمیپوں میں میڈیکل کی سہولت سمیت تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ریلیف کمیپوں میں ذمہ دار افسران کی ڈیوٹیاں لگائی جائیں۔انہوں نے کہا کہ جن سکولوں میں ریلیف کیمپ قائم ہیں ان کو بند رکھا جائے۔ ٹینٹوں،پینے کے صاف پانی اور خوراک کی فراہمی کیلئے مقامی این جی اوز سے رابطہ کیا جائے۔ جن سیلابی بندوں پر گڑھے پڑچکے ہیں ان کو فی الفور مرمت کیا جائے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مشینری کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔یونین کونسل کی سیکرٹریز کے ذریعے نشیبی علاقوں سے لوگوں کے انخلاء کیلئے اعلانات کرائے جائیں۔سول ڈیفنس کے رضا کاروں کی خدمات بھی حاصل کی جائیں۔ڈپٹی کمشنر نے تمام افسران کو ہدایت کی کی موجودہ صورتحال میں کوئی افسر اپنا ضلع نہیں چھوڑے گا۔
اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نے ریسکیو 1122کی خدمات کو سراہاتے ہوئے کہا کہ ریسکیو1122کے افسران و اہلکار اپنے فرائض ذمہ داری سے ادا کررہے ہیں۔
اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد شاہ رخ، سی ای او صحت ڈاکٹر محمد فیاض، ڈسٹرکٹ آفیسر ریسکیو 1122میاں حسین، ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیو سٹاک ڈاکٹر طارق سعید، اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت عبدالرزاق، ڈسٹرکٹ آفیسر پی ڈی ایم اے عرفان سیال، ایکسین ہائی وے، ایکسین آبپاشی، ڈی ای او تعلیم سمیت متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔











