پبلک اکائونٹس کمیٹی نے توشہ خانہ کا گزشتہ چار سال کا  ریکارڈ طلب کر لیا، ملک بھر میں گیس کنکشنز پر عائد پابندی ختم کرنے کی ہدایت

19

اسلام آباد۔18اگست  (اے پی پی):پبلک اکائونٹس کمیٹی (پی اے سی) نے توشہ خانہ کا گزشتہ چار سال کا  ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تحائف ملک کی عزت ہوتے ہیں، انہیں بازاروں میں گھمانا ملک کی بدنامی کا باعث بنتا ہے۔ پی اے سی نے سیکرٹری پٹرولیم کو ہدایت کی ہے کہ اوگرا سمیت ان کی وزارت کے ماتحت جو بھی ادارہ آتا ہے اس میں بھاری تنخواہوں اور مراعات پر تعیناتیوں پر نظرثانی کی جائے، ملک بھر میں گیس کنکشنز پر عائد پابندی ختم کی جائے۔ پی اے سی کا اجلاس جمعرات کو  پارلیمنٹ ہائوس میں کمیٹی کے چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان مشاہد حسین سید ، احمد حسن ڈیہر، سید حسین طارق، ڈاکٹر ملک مختار احمد، برجیس طاہر، شاہدہ اختر علی، ڈاکٹر محمد افضل ڈھانڈلہ، ڈاکٹر نثار احمد چیمہ، وجیہ قمر اور شیخ روحیل اصغر سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ چیئرمین ایف بی آر نے کورونا کی وجہ سے ویڈیو لنک کے ذریعہ اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں ایف بی آر اور پیٹرولیم ڈویژن کے 2019-20 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے آغاز پر چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے ارکان کو بتایا کہ پٹرولیم کا ایک کیس ایف آئی اے میں تھا، اس کیس میں کاغذات میں جعل سازی کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ کے تحائف کی قیمت کا تعین ایف بی آر اور سٹیٹ بینک کرتا ہے، اگر ارکان کی اجازت ہو تو ہم گذشتہ چار سالوں کی ان سے تفصیلات طلب کر لیتے ہیں۔ تمام ارکان نے اس فیصلے کی تائید کی۔ نور عالم خان نے کہا کہ تحائف ملک کی امانت ہوتے ہیں، وزیراعظم ہو یا کوئی بھی جس نے بھی توشہ خانے سے کوئی چیز لی ہو اس کی تفصیلات سامنے آنی چاہیئں، یہ تحائف ملک کی عزت ہوتے ہیں، انہیں بازاروں میں نہیں گھمانا چاہئے اور قانون کے مطابق جو بھی یہ لینے کا مجاز ہو اسے ہی ملنی چاہئے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اصل کو نقل سے بھی بدل دیا گیا۔ انہوں نے آڈیٹر جنرل کو ہدایت کی کہ گذشتہ چارسالوں کا ریکارڈ متعلقہ اداروں سے لے کر پی اے سی کو فراہم کیا جائے۔ وزارت پٹرولیم کے آڈٹ اعتراض کے جائزہ کے دوران پی اے سی کو بتایا گیا کہ او جی ڈی سی ایل میں جعلی کاغذات پر ایک افسر کو بھرتی کیا گیا، اس سے 77 لاکھ سے زائد کا نقصان ہوا۔ مذکورہ افسر کی مدت ملازمت میں تین مرتبہ توسیع بھی کئی گئی۔ نور عالم خان نے کہا کہ کاغذات کی تصدیق کرائیں، اگر درست ثابت ہوا تو معاملہ نمٹ جائے گا۔ سیکرٹری پٹرولیم کو ہدایت کی گئی کہ پی ایس او کے پٹرول کے معیار کو بہتر بنایا جائے۔ نور عالم خان نے کہا کہ گیس کنکشن کھولے جائیں اور اوگرا سمیت وزارت کے دیگر ماتحت اداروں میں بھاری تنخواہوں اور مراعات پر بھرتیوں پر نظرثانی کریں۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی میں ایف بی آر کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ ایف بی آر کا ڈیٹا 2021 میں  غیرمحفوظ سافٹ وئیرز کی وجہ سے ہیک ہوا، ایف بی آر کا ٹیکس کا ڈیٹا 10 ہزار ڈالر پر ڈارک ویب پر ہے۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ایف بی آر کی سائیٹ پر 2021 میں ہیکرز نے حملہ کیا تاہم حملے سے ایف بی آر کا ڈیٹا محفوظ رہا۔ چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ ایف بی آر ہمیں معلومات دینے سے انکاری ہے۔ ارکان کمیٹی کا حق ہے کہ ہم جان سکیں کونسی کمپنی کیا کررہی ہے۔ ممبر ایف بی آر نے کہا کہ قانون کے مطابق ہم ٹیکس پیئر کی معلومات شیئر نہیں کرسکتے۔ نورعالم خان نے کہا کہ آئین کے تحت پی اے سی کو معلومات نہ دینے پر سزا ہے۔ پی اے سی نے کہا کہ فاٹا اورپاٹا میں آئل، گھی، فرنس اور دیگر شعبوں کے ٹیکس کا ریکارڈ بھی فراہم کیا جائے۔