اگر نوازشریف بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل ہوسکتے ہیں تو عمران خان کرپشن اور الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد نااہل کیوں نہیں ہو سکتے ؛وفاقی وزیر جاوید لطیف

15

لاہور،22اگست  (اے پی پی):وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہاہے کہ ہمیں پاکستان کا درد ہے، اداروں پر انگلیاں اٹھتی ہیں تو تکلیف ہوتی ہے،اگر نوازشریف بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل ہوسکتے ہیں تو عمران خان کرپشن اور الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد نااہل کیوں نہیں ہو سکتے، وہ کون ہیں جو عمران خان کی ریکارڈ تقریر چلوا رہے ہیں، ہم پر تو مکمل پابندی رہی، اگر کسی نے مقدمے بنانے ہیں تو شوق پورا کر لے منہ توڑ جواب دیں گے۔

 وہ پیر کے روز یہاں ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جس ریاست کو بچانے کیلئے سیاست کی قربانی دی وہ قربانی مکمل نہیں ہے،قربانی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک معیشت کو اس حال تک پہنچانے والے لوگوں کے کردار کو بے نقاب نہیں کیا جاتا اور 75سالوں سے سازش کرنے والوں کو کٹہرے میں نہیں لایا جاتا۔انہوں نے کہا کہ آج کے وزیر اعلی پرویز الہی جب سپیکر تھے تو کہا کرتے تھے کہ ق لیگ کو توڑ کر پی ٹی آئی کو بنایا جا رہاتھا۔انہوں نے کہا کہ فواد چودھری یہ کہ کرکس کو گالی دے رہا ہے کہ  کوئی مائی کا لال عمران خان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف کاکہناتھاکہ الطاف حسین کی آج تک تقریر پر پابندی ہے جبکہ آج ایک شخص کو سہولت تو دوسرے کو پابندی کا سامنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لائیو کو ریج روکنے سے بات آگے نکل گئی ہے، اگر باسٹھ تریسٹھ پر تاحیات نااہل ہو سکتے ہیں تو وہ کون ہیں جو توشہ خانہ کیس ثابت ہونے پر عمران خان کو نااہل نہیں کررہے ،کیا نااہلی کیلئے آٹھ سال انتظار کرنا ہوگا۔

وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا کہ ریاست شخصیات کو دیکھ کر فیصلے نہیں کرتی،اگر 17ویں سکیل کی پوسٹنگ پر نوٹس ہو سکتا ہے تو 25 جولائی کے کیسز کیسے ختم ہو سکتے ہیں،پانچ سال گزرنے کے باوجود تاریخیں بھگت رہے ہیں ،کیا عمران خان اور عارف علوی دھرنے کے دوران اداروں پر حملہ کروانے کا درس نہیں دیتے تھے۔انہوں نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیزصدیقی کہتے تھے کہ ثاقب نثار اور آصف سعید کھوسہ کس سے ملتے یا ہدایت لیتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس سیٹھ وقار اور جسٹس ارشد ملک توفوت ہوگئے کیا اب بھی ہم کسی کے فوت ہونے کاانتظار کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا کہ نوازشریف بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل ہوئے تو کون ہے جو عمران خان کو گرفتاری سے بچا رہاہے،ڈوری کہیں اور سے ہل رہی ہے، اکا دکا شخص ہے جو ڈوری ادھر ادھر کررہا ہے،یہ کیسے ممکن ہے کہ ریاست کو للکارنے والا کھلے عام پھرے البتہ ہم ریاست کے مفاد کے لئے بولیں گے ، میر جعفر ومیر صادق کا کردار ادا کرکے عمران خان نے وزیر اعظم کی نوکری کی۔ان کامزیدکہنا تھا کہ بقول جسٹس شوکت صدیقی نوازشریف کے خلاف جو کچھ ہوا اگر اس نا انصافی کا مداوا نہ کیا گیا اورعمران خان کو کٹہرے میں لانے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تو قوم برداشت نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ  ہم بتا رہے ہیں کہ  نتائج سے بے پرواہ ہوکر نوازشریف پاکستان آ رہے ہیں۔