اسلام آباد، 31 اگست (اےپی پی): جدوجہد آزاد ی کشمیر، دہائیوں سے جاری قربانیوں کی ایک طویل داستان ہے۔ اس جدوجہد میں ہزاروں افراد نے بے مثال قربانیوں اورعزم و ہمت کی تاریخ رقم کی ۔انہی میں سے ایک اہم نام سید علی گیلانی کا ہے جنہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے علم کو بلند رکھا ۔
وہ جدوجہد آزادی کشمیر کا استعارہ کہلائے اور بندوق کے سائے میں بھی ’’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے’‘ کا نعرہ بلند کیا ۔
29 ستمبر 1929 کو پیدا ہونے والے سید علی گیلانی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت کا شکار کشمیریوں کی توانا آواز تھے
اوریئنٹل کالج پنجاب یونیورسٹی کے گریجویٹ سید علی گیلانی نے اپنی جدوجہد کا آغاز جماعت اسلامی کشمیر کے پلیٹ فارم سے کیا تھا،
1987 میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئےحریت کانفرنس کی بنیاد رکھی اور اہلِ کشمیر کی نمائندگی کا حق ادا کیا،
انہوں نے اپنے پرجوش خطابات میں کشمیر کو دوسرا پاکستان قرار دیا اور تاعمر اپنے اس موقف پر مضبوطی سے ڈٹے رہے
وہ معروف عالمی مسلم فورم “رابطہ عالم اسلامی ” کی رکنیت حاصل کرنے والے پہلے کشمیری بھی تھے۔
جبکہ ان سےقبل سید ابوالاعلی مودودی اور سید ابو الحسن علی ندوی جیسی شخصیات برصغیر سے اس فورم کی رکن رہ چکی ہیں۔
پاکستان کے 73ء یوم آزادی کے موقع پر حکومت پاکستان نے بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کو ،، نشان پاکستان،، کا اعزاز دیا۔
عظیم مجاہد آزادی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ علم و ادب سے بھی گہرا شغف رکھتے تھےاور علامہ اقبال کے بہت بڑے مداح تھے۔
جدوجہد آزادی اور بھارتی جارحیت کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ بھارتی جیلوں میں گزارا اور پابند سلاسل رہے۔ اس دوران اپنے دور اسیری کی یادداشتیں ایک کتاب کی صورت میں تحریر کیں جس کا نام “روداد قفس” ہے۔
زندگی کے آخری 12 برس بھارتی فوج نے انہیں ان کے گھر پر نظر بند رکھا اور دوران اسیری ہی سید علی شاہ گیلانی کی یکم ستمبر2021ء کو 92 سال کی عمر میں وفات ہوئی۔
سید علی گیلانی مرحوم دوران قید ہی جان کی بازی تو ہار گئے لیکن اپنی زندگی میں بےمثال قربانیاں اور اپنی قوم کو جذبہ آزادی دے کر انہوں نے جو شمع روشن کی وہ آنے والی تمام نسلوں کے لیے جذبہ آزادی اور جدوجہد کی وہ شمع ہے، جو کشمیبر کی تاریخ میں ہمیشہ روشن رہے گی اور سید علی شاہ گیلانی کا نام سنہری حروف میں لکھا جائےگا۔











