عمران خان اگر اداروں کو چوکیدار کہہ رہے ہیں تو ادارے قومی دفاع اور قومی سلامتی کے محافظ ہیں، ان کی کرسی اور اقتدار کے نہیں؛ مریم اورنگزیب

15

اسلام آباد،3اکتوبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان اگر اداروں کو چوکیدار کہہ رہے ہیں تو ادارے قومی دفاع اور قومی سلامتی کے محافظ ہیں، آپ کے اقتدار اور کرسی کے نہیں، عمران خان کی پوری سیاست بیساکھیوں پر مبنی ہے، آج وہ بیساکھیوں کی تلاش میں پھڑ پھڑا رہے ہیں لیکن کہیں سے بیساکھیاں آ نہیں رہیں، وہ چاہتے ہیں کہ ادارے اپنے حلف کی خلاف ورزی کر کے ان کے کھیل کا حصہ بنیں، قوم فارن ایجنٹ، سازشی، قومی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے، آئین شکن، جھوٹے اور نااہل شخص کو کبھی معاف نہیں کرے گی، عمران خان جیسے شخص کو نشان عبرت بنانا چاہئے تاکہ کوئی قومی مفاد اور ملک کے آئین کے ساتھ کھلواڑ نہ کر سکے۔

 پیر کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ سے وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں سیلاب کے حوالے سے ریکارڈ کام کیا، جب سیلاب آیا تو اس کی تباہ کاریوں کا مقابلہ کرنا مشکل نظر آ رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج، صوبائی حکومتوں، این ڈی ایم اے، سول سوسائٹی سمیت دوست ممالک نے سیلاب کی صورتحال میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا جس پر ہم ان کے مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے  اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کےحالیہ دورہ کے دوران بھی تمام تر توجہ سیلاب پر مرکوز رہی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے ساتھ مل کر سیلاب متاثرہ علاقوں میں  مشترکہ سرویز شروع ہو گئے ہیں۔

 مریم اورنگزیب نے کہا کہ ایک طرف ملک کا وزیراعظم اس وقت سیلاب زدگان کیلئے ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیوں میں دن رات مصروف ہے جبکہ دوسری طرف ایک شخص جو اس ملک میں چار سال تک وزارت عظمیٰ کی کرسی پر مسلط رہا، اس کی آڈیو لیکس سامنے آ رہی ہیں جو ملکی سلامتی کے خلاف سازشوں میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی پہلی آڈیو لیک 28 ستمبر کو سامنے آئی، سابق وزیراعظم اپنی کرسی جانے کے خوف میں مبتلا تھے، انہوں نے 27 مارچ کو جلسہ میں ایک کاغذ لہرایا، ان کی بیرونی سازش کا پورا کھیل بے نقاب ہو گیا ہے۔ اس آڈیو لیک میں سابق وزیراعظم بار بار کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اس سائفر کے ساتھ کھیلنا ہے۔ انہوں  نے کہا کہ 7 مارچ کو سائفر آیا جو 8 مارچ کو فارن آفس کو موصول ہوا، 9 مارچ کو اس سائفر کی کاپی وزیراعظم ہائوس میں منگوائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آڈیو لیک میں عمران خان نے کہا کہ اس پر تاریخ پہلے کی ہے۔ 7 مارچ کو موصول ہونے والے سائفر کا عمران خان نے اس وقت قوم کو کیوں نہیں بتایا کہ میرے خلاف سازش ہو رہی تھی۔

 مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان نے 27 مارچ کو یہ کاغذ اس لئے لہرایا کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو رہی تھی اور ان کے اتحادی انہیں چھوڑ کر جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان چور، کرپٹ اور نااہل تھے، انہوں نے ملکی معیشت تباہ کی، کشمیر کا سودا کیا، ملک میں افراتفری پیدا کی جس کی وجہ سے ان کے اتحادی بھی انہیں چھوڑ گئے۔ انہوں نے کہا کہ آڈیو لیک میں عمران خان کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اس سائفر کے ساتھ کھیلنا ہے اور امریکہ کا نام نہیں لینا، عمران خان نے اس سائفر کے منٹس بدلے، اس میں سازش کا لفظ استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ آڈیو لیک میں عمران خان کا پورا بیانیہ بے نقاب ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی 30 ستمبر کو ایک اور آڈیو لیک آئی جس میں میٹنگ بلانے کا ذکر کیا گیا، اس آڈیو لیک میں وزیر خارجہ، سیکریٹری خارجہ اور تین چار وزراء کو بلانے کی بات کی گئی اور اس سائفر کے منٹس کی تیاری کا ذکر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 30 ستمبر والی آڈیو لیک میں کہا گیا کہ اس سائفر کو خط کہا جائے گا، آڈیو لیک میں حقیقی آزادی والے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے امریکہ کا نام نہیں لینا، عمران خان آڈیو لیک میں بار بار کہہ رہے ہیں کہ ہمارے منہ سے امریکہ کا نام نہ نکلے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر ان کی بات مان لی جائے کہ 7 مارچ کو ان کے پاس سائفر آیا جو ملک کے خلاف سازش تھی تو پھر نام کیوں نہیں لینا،  عمران خان کو پتہ تھا کہ وہ ملکی مفادات، قومی سلامتی اور ملک کے آئین کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں، عمران خان نے ملک اور عوام کو گمراہ کیا، قومی سلامتی اور قومی مفادات کے ساتھ کھیل کھیلا، ملک میں انارکی پھیلانے کی کوشش کی، عمران خان نے کھیل کھیل میں پارلیمان اور آئین کو توڑا، انہیں شرم تک نہیں آئی کہ انہوں نے اپنی سیاست اور کرسی کی خاطر ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا اور اپنے ذاتی مفاد کے لئے آئینی عہدوں سے آئین شکنی کروائی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی پوری سیاست بیساکھیوں پر مبنی ہے، عمران خان نے اپنی سیاست خیرات کے پیسے سے کی، یہ دوسروں کے سہارے پر سیاست میں آئے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان آج کیوں ڈر رہے ہیں، آج جب انہیں اپنے بل بوتے پر سیاست کرنی پڑ رہی ہے تو وہ دھمکیاں دینے پر اتر آئے۔

 وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان نے چار سال تک اپنے سیاسی مخالفین کو جیلوں میں رکھا، عدالتوں میں ان کے خلاف جعلی ریفرنس دائر کئے، پوری ریاستی طاقت استعمال کی، نیب نیازی گٹھ جوڑ بنا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے قومی سلامتی کے حساس معاملے کو سیاست کی نظر کیا، یہ قومی سلامتی اور آئین و قانون کا معاملہ ہے، سائفر کو سیاست کی نظر عمران خان نے کیا ہے، عمران خان کی آڈیو لیکس کے حوالے سے کابینہ میں تفصیلی بریفنگ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سیکریسی ایکٹ کے تحت سائفر پبلک نہیں ہو سکتا، عمران خان نے اس سائفر کو منٹس میں تبدیل کر کے کھیل کھیلنے کا تماشا کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنی دونوں آڈیو لیکس کی تردید نہیں کی، وہ اعتراف جرم کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران نیازی نے سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالا، طیبہ گل کی ویڈیو استعمال کی، نیب کے چیئرمین کو بلیک میل کر کے نیب نیازی گٹھ جوڑ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے خلاف ثبوت موجود ہیں، کابینہ نے اس پر تفصیلی بحث کی ہے اور ایک سب کمیٹی تشکیل دی، اس سب کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ کریمنل انوسٹی گیشن کےزمرے  میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کی بھرپور تحقیقات کر کے اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان کی آڈیو لیک اس وقت کی ہے جب وہ وزیراعظم کی کرسی پر براجمان تھے، عمران خان کو پتہ ہونا چاہئے کہ اس طرح کے کھیل سے بیرون ملک تعلقات، فارن پالیسی، ملکی سلامتی اور ملکی معاملات پر گہرا اثر پڑتا ہے، آج عمران خان کے اس کھیل کے نقصانات پاکستان بھگت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان سے دوسرے ممالک بات کرتے ہوئے دس مرتبہ سوچتے ہیں۔

 اس موقع پر پریس کانفرنس میں عمران خان کے اے آر وائی ٹی وی چینل پر انٹرویو کی ویڈیو بھی چلائی گئی جس میں اینکر پرسن سابق وزیراعظم سے سوال کر رہی ہیں کہ لیٹر کی کاپی کہاں ہے جس پر عمران خان کہتے ہیں کہ وہ گم ہو گیا ہے، اس کی ایک کاپی ان کے پاس تھی لیکن اب وہ غائب ہو گئی ہے، نہیں پتہ کہ وہ کہاں ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان کے پاس سائفر کی کاپی تھی جس کے بارے میں وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ غائب ہو گئی ہے، یہ وہ دستاویز ہے جس پر کھیل کھیلا گیا، آئین توڑا گیا، پارلیمان توڑی گئی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے یہ کاپی وزیراعظم ہائوس میں منگوائی اور اپنے ساتھ لے کر گئے اور آج کہہ رہے ہیں کہ مجھے نہیں پتہ کہ وہ کہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے شخص کو غدار نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟ انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل معافی جرم ہے، عمران خان نے یہ جرم کیا ہے جس کا وہ خود مان رہے ہیں کہ ان سے کاپی گم ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ملک کا تماشا بنا دیا ہے، انہوں نے عوام کو بے وقوف بنایا، مدینہ کی ریاست اور امر بالمعروف جیسے پاک نام کو اپنے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کیا، جب سب کچھ عمران خان کے ہاتھ سے نکل گیا تو انہوں نے اس سائفر کو امریکی سازش کا نام دے کر عوام کو گمراہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے پارلیمان سے باہر پھینکا گیا۔

 وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان نے اپنے چار سالوں میں مریم نواز کو دو مرتبہ گرفتار کروایا، جب ان کے خلاف کچھ نہ ملا تو انہیں رمضان شوگر مل کیس میں گرفتار کروایا، مریم نواز کا پاسپورٹ ضبط کیا گیا جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے چار سال جو کرنا تھا کرلیا، اب وہ عوام کو بے وقوف نہ بنائیں، حقیقت یہ ہے کہ کبھی کسی قسم کی چوری ہوئی نہ کک بیکس، نہ کرپشن اور نہ اختیارات کا ناجائز استعمال ہوا۔  انہوں نے کہا کہ عمران خان اب علیم خان کے دفتر پر چھاپے مروا رہے ہیں، انہی کے کاروبار سے عمران خان نے کھایا ہوا ہے، کچھ تو شرم کریں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے محسنوں کے جنازوں میں بھی شرکت نہیں کرتے۔