کوئٹہ، 15اکتوبر (اے پی پی):ممبر پبلک ریلیشن فیڈرل بورڈ آف ریونیو سردار علی خواجہ نے کہا ہے کہ پوائنٹ آف سیل سسٹم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے عوام اور تاجر ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کا ساتھ دیں، ایف بی آر میں شفافیت کے قیام کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور ماضی کے مقابلے میں اب ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کا یہ ادارہ ملکی تعمیر و ترقی اور بحالی معیشت کا شفاف ادارہ ہے جو ملکی معاشی استحکام کے لیے کام کر رہا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایف بی آر کی دسویں پی او ایس پرائز اسکیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوائنٹ آف سیل ایف بی آر کا سب سے کامیاب اقدام ہے اسکو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے، پی او ایس سسٹم سے فائدہ اٹھانے کے لیے بلوچستان بھر میں آگاہی مہم شروع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
سردار علی خواجہ نے کہا کہ ٹریڈد حضرات پی او ایس سسٹم کے زریعے ٹیکس قومی خزانے تک پہنچائیں اس کے ساتھ ساتھ عوام خریداری کے بعد پی او ایس رسید لازمی لیں اور قرعہ اندازی میں شامل ہو کر ایف بی آر کی اس اسکیم سے استعفادہ کریں۔انہوں نے بتایا کہ چئیرمین ایف بی آر کھلی کچہری کے ذریعے مسائل سن کر اسکا ادراک کر رہے ہیں، سیلاب کی وجہ سے ایف بی آر نے اس سال اکتیس اکتوبر تک فائل ریٹرن کی تاریخ میں توسیع کردی ہے۔
سردار علی خواجہ نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کی حوصلہ افزائی کے لئے ایف بی آر کی اس انعامی اسکیم سے متعلق عوام میں شعوری آگاہی کی ترویج کرنی ہوگی اور لوگوں میں ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کے لئے سہولیات کا دائرہ کار بڑھانا ہوگا، اس کے ساتھ ساتھ ون ٹئیر ریٹلرز کو بھی اپنی قومی زمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے صارفین سے جمع ہونے والا ٹیکس پوری دیانتداری سے ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں جمع کرنا ہوگا۔
چیف کمشنر انکم ٹیکس بلوچستان شاہد محمود شیخ نے کہا ہے کہ ٹیکس کی بروقت وصولی اور ٹیکس دہندگان کی معاونت و حوصلہ افزائی کے لئے غیر معمولی اقدامات اٹھائے جاررہے ہیں، پی او ایس پرائز اسکیم کا مقصد ٹئیر ون کے ریٹلرز کو مصدقہ رسیدات کے اجراءکی جانب راغب کرنا ہے تاکہ ٹیکس دہندگان کے ادا شدہ ٹیکس کی رقومات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
تقریب میں چیف کمشنر کوئٹہ ایف بی آر شاہد محمد شیخ چیمبر آف کامرس، انجمن تاجران، ٹیکس بار ایسوسی ایشن سمیت مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے۔ تقریب میں پی او ایس سسٹم کے تحت انعامی رقم حاصل کرنے والے خوش نصیبوں کے ناموں کا اعلان کیا گیا۔











