اسلام آباد،20اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی نے رکن پارلیمان کی گرفتاری کی صورت میں سپیکر کے لئے پروڈکشن آرڈرز کے اجرا کو لازمی قرار دینے اور اجلاس کے دوران پارلیمنٹ لاجز کو سب جیل قرار دینے کا اختیار انتظامیہ سے سپیکر کو تفویض کرنے کے قاعدہ میں ترامیم کی منظوری دے دی۔
جمعرات کو اس حوالے سے قومی اسمبلی میں پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر مرتضیٰ جاوید عباسی نے ارکان کی گرفتاری کی صورت میں متعلقہ قواعد میں ترمیم پیش کرنے کی اجازت چاہی۔ سپیکر کی جانب سے اجازت ملنے پر انہوں نے ایوان میں ترمیم پیش کی۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ وہ متعلقہ قواعد میں ترامیم کے حوالے سے تجاویز پیش کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی رکن کی گرفتاری کی صورت میں سپیکر کے لئے پروڈکشن آرڈر جاری کرنا لازمی قرار دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اکثر سپیکر پارلیمانی لیڈر کے تابع ہوکر پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کرتا تھا۔ شازیہ مری نے تجویز کی حمایت کی اور کہا کہ موجودہ رولز بھی واضح تھے مگر اسے نظر انداز کردیا جاتا رہا۔
خواجہ آصف نے سپیکر کے لئے پروڈکشن آرڈر کے اجرا کو لازمی قرار دینے اور اجلاس کے دوران پارلیمنٹ لاجز کو سب جیل قرار دینے کا اختیار انتظامیہ سے سپیکر کی کرسی کو تفویض کرنے کے حوالے سے ترامیم پیش کیں۔ مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ وہ تجویز کی تائید کرتے ہیں۔ برجیس طاہر نے کہا کہ پارلیمانی تاریخ میں آج کا دن یاد رکھا جائے گا۔ رولز 90 کو سابق سپیکر صوابدیدی طور پر اپنی مرضی کے مطاق استعمال کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر لازمی قرار دینے سے حلقے کے لوگ اپنی نمائندگی سے محروم نہیں ہو سکیں گے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ماضی میں صبح چار بجے سعد رفیق کو اٹھایا جاتا تھا اور لاہور سے یہاں شفٹ کیا جاتا تھا اور اجلاس کے بعد واپس لاہور شفٹ کر دیا جاتا تھا، اس لئے اجلاس کے دوران پارلیمنٹ لاجز کے متعلقہ کمرہ کو سب جیل قرار دینے کا اختیار انتظامیہ سے سپیکر کو تفویض کیا جائے۔ ایوان نے دونوں تجاویز کو ترامیم میں شامل کرنے کی اجازت دے دی۔ بعد ازاں مرتضیٰ جاوید عباسی نے ایوان میں طریقہ کار کے قواعد میں تبدیلی سے متعلق ترمیم پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دے دی۔
جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایجنڈے کے بیشتر امور نمٹائے گئے جبکہ ارکان نے نکتہ اعتراض پر بھی مختلف عوامی مسائل اجاگر کئے۔ بعد ازاں قائم مقام سپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس (کل) جمعہ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا ۔











