اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے اللہ والا چوک میں فائرنگ کے واقعہ اور سوچ کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی صاف اور شفاف تحقیقات کے لئے سینئر افسران پر مشتمل جے آئی ٹی تشکیل دی جائے ، فائرنگ کرنے والے شخص کی گرفتاری، اعترافی بیان کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے وزیراعظم ، مجھ پر اور ادارے پر الزامات بلاجواز ہیں ، سکیورٹی ناقص ہونے اور ملزم کا اعترافی بیان لیک ہونے پر وزیراعلیٰ پنجاب کو مستعفی ہونا چاہئے ، اگر ہر وقت تشدد کی فصل بوئیں گے ، مارنے کی باتیں کریں گے تو تشدد اور نفرت کا بیانیہ بار آور ہوگا، آپ یہ مت سمجھیں کہ اس کا نشانہ صرف مخالف بنیں گے بلکہ آپ خود بھی اسکا نشانہ بنیں گے ، ایک ادارہ جو سیاسی طور پر آپ کے کام نہیں آرہا ، ،دوبارہ برسراقتدار لانے سےانکار کیا اور آپ کی سیاسی خواہشات کو پورا کرنے سے معذرت کر دی ہے تو ہر معاملے میں اسے کیوں گھسیٹ رہے ہیں، وہ ادارہ اس ملک کی بقا، دفاع ، سرحدوں کا محافظ ہے ، اس ادارے کے خلاف ایسی مہم جوئی کر رہے ہیں جو دشمن ملک کو پسند آرہی ہیں ۔ وہ جمعرات کی رات پی ٹی وی ہیڈکواٹرز میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ آج شام کو اللہ والا چوک میں پیش آنے والے واقعہ میں عمران خان، فیصل جاوید سمیت پانچ لوگ زخمی اور معظم نامی شخص جاں بحق ہوا ہے ، ہم اس واقعہ کی پرزور مذمت اور دلی اظہار افسوس کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں پریس کانفرنس یا تقاریر کی حدتک کسی بات کا جواب دیا جاتا ہے ،ہم تو اس میں بھی چاہتے ہیں کہ شائستگی، عزت و احترام اور سیاسی راواداری ہو ، بدقسمتی سے 2014 سے ایک ایسی روش اپنائی گئی ہے کہ سیاسی احترام، رواداری ، دوسروں کی عزت کو ملحوظ خاطر رکھنے کی بجائے دوسرے کو بے عزت کرنے پر زیادہ زور رہے ، یہ چیزیں سیاسی بیانات اور تقاریر کی حد تک رہیں تو نامناسب ہیں مگرقابل برداشت ٹھہرتی ہیں لیکن جب تشدد شامل ہو جائے تو ایسے ذہن اور سوچ کی ہمیشہ ہم نے مذمت اور مخالفت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف ،مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سمیت ہم سب نے اس واقعہ پر دلی افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں پی ٹی آئی کےاس کارکن کو جس نے حملہ آور کو رنگے ہاتھوں پکڑ ا اور پولیس نے اسے فوری طور پر گرفتار کر لیا اس پر اس کارکن اور پولیس کی کارروائی کی تعریف کرتا ہوں ،ایسا نہ ہوتا تو بعض لوگوں کو سیاسی دکان چمکانے کے مواقع میسر آتے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے حکومت پنجاب سے اس واقعہ کی رپورٹ طلب کرنے کاحکم دیا ہے جس پر وزارت داخلہ نے تحریری طور پر حکومت پنجاب سے جواب طلب کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ نے حکومت پنجاب کو یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس معاملے میں تحقیقات کے لئے جو بھی مدد درکار ہو گی وفاق اس کے لئے تیار ہے ، وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ کی انکوائری کے لئے سینئر افسران پر مشتمل جے آئی ٹی تشکیل دی جائے تا کہ اس میں ابتدائی مراحل سے ہی تفتیش کا عمل شفاف اور مستند ہو اور اصل صورتحال لوگوں کے سامنے لائی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ تشد د کی ہر صورت اور شکل کی ہم مذمت کرتے ہیں ،پاکستان مسلم لیگ ن نے 2018 میں مذہبی تعصب کا شکار رہی ہے، ہمارے اوپر فتوی جاری ہوتے رہے ہیں ، قائد محمد نواز شریف پر حملے بھی ہوئے ، ہم نے ہمیشہ درگذر اور معافی سے کام لیا ہے اس کی حالیہ مثال مسجد نبوی ؐ جیسے ایسے مقام جہاں اونچی آواز میں بات کرنا بھی حد آداب ٹھہرتا ہے ،وہاں پر سیاسی جماعت کی قیادت کے کہنے پر قابل اعتراض رویہ اپنایا گیا نہ کسی خاتون کی عزت کو نہ ہی ملک کی عزت کو روا رکھا گیا ،ایسے جملے کسے گئے اور غنڈا گردی کی گئی ، سعودی حکومت نے ان لوگوں کو گرفتار کیا اور مثالی سزائیں دیں ، وزیراعظم اس دورے کے بعد پہلی مرتبہ سعودی عرب گئے تو ان کی بھی معافی سے کے لئے شہزادہ محمد بن سلیمان سے گذارش کر کے قید سے رہائی دلوائی ،جن کے کہنے پر قابل اعتراض عمل کیا تھا انہوں نے دوبارہ پیچھے نہیں دیکھا ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ آج جب یہ واقعہ ہوا تو ویڈیو سب کے سامنے ہے ، جنہوں نے چھلانگیں لگائیں اوردوڑگئے انہوں نے واپس آکر الزامات لگانے شروع کردیئے، شیریں مزاری نے کس طرح اس واقعہ کا الزام وزیراعظم، میرے اور ایک ایک ادارے پر لگایا ، فواد چوہدری نے گھروں پر حملے کے لئے اکسایا تو انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ ان کا بھی گھر زمین کے اوپر ہے ، اس آگ پر آپ بھی جلیں گے ، اگر دوسروں کے گھروں پر حملے کریں گے تو آپ کے گھر بھی نہیں بچیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اسد عمر نے عمران خان کی جانب سے بیان دیا کہ اس واقعہ کی ذمہ داری وزیر داخلہ اور ایک ادارے پر عائد ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حملہ آور کے اعترافی بیان کے بعد ایسے بیانات بلاجواز ہیں ، پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت اور گجرات کا تھانہ ہے ، وہ بات جو پہلے موقف کے طور پر سامنے آئی ہے وہ بات یہاں دوبارہ نہیں دوہراتا ۔انہوں نے کہا کہ جب قوم کے جوانوں کو گمراہ کریں گے تو اس میں کچھ گمراہ آپ کے اپنے خلاف بھی ہوسکتا ہے اس لئے بغیر کسی تفتیش اور شواہد کے اس واقعہ کو اپنے گٹھیا سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی ،اس سوچ کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں ۔











