اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کم سے کم اجرت کی ادائیگی کے حوالے سے توجہ مبذول نوٹس قومی اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔ جمعرات کو عالیہ کامران کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری سید آغا رفیع اللہ نے کہا کہ سابق حکومت کے دور میں ہم نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کم سے کم اجرت 25 ہزار ہونی چاہیے۔ سندھ میں ہم نے اس وقت 25 ہزار کردی تھی اور موجودہ حکومت نے بھی اس مرتبہ 25 ہزار کم سے کم اجرت کردی ہے۔ میں اپنی وزارت کے جواب سے مطمئن نہیں ہوں، 25 ہزار سے کم اجرت قطعاً نہیں دی جانی چاہیے۔ اس سوال کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری آغا رفیع اللہ نے کہا کہ کسی بھی ملک میں لوگ کام کرنے کے لئے سرکاری سطح پر جائیں تو دونوں متعلقہ ممالک کی حکومتوں کے درمیان باقاعدہ اجرت کے حوالے سے معاہدہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی نجی سطح پر کام کے لئے جاتا ہے تو اس کی حکومت ذمہ دار نہیں ہے۔ سید جاوید حسنین کے سوال کے جواب میں سید آغا رفیع اللہ نے کہا کہ ای او بی آئی کی پنشن کی رقم بھی بڑھائی جائے گی۔ سپیکر نے اس سوال کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔











