اوکاڑہ؛ خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر سیمینار کا انعقاد

22

اوکاڑہ،25نومبر(اے پی پی ):خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر ایف ڈی او ، فافین اور ماڈا کے زیر اہتمام سیمینار کا انعقاد کیا گیاجس میں سابق سینئر نائب صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن/جنرل سیکرٹری ماڈا مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ،ایف ڈی او کے ضلعی کوارڈینیٹر رانا عبداللہ،پرنسپل انفارمیٹکس رانا ساجد، جرنلسٹ محمد مظہر رشیدچودھری نےخطاب کیا،کالج کی طالبات نے دن کی مناسبت سے خواتین پر تشدد کے خلاف پلے کارڈز اور ہاتھوں کی ہتھیلیوں پر نعرے درج کر رکھے تھے ۔

 سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ موجودہ دور میں خواتین کو ان کے حقوق سے آگاہی وقت کی ضرورت ہے، معاشرتی رویوں میں تبدیلی کے بغیر خواتین اور خاص طور پرکم عمر بچیوں پر جسمانی وجنسی تشدد کا خاتمہ ناممکن نظر آتا ہے، معاشرتی پابندیوں، عدم مساوات، غربت اور زبردستی کی شادیوں کی وجہ سے خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے ۔

مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ نے کہا کہ عظیم مذہب اسلام عورت کے حقوق، تحفظ، چادر کی حرمت کو مکمل طور پر یقینی بناتا ہے، آئین پاکستان اور قانون میں عورت کے تحفظ کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے، پنجاب میں سالانہ 9 ہزار سے زائد خواتین مختلف اقسام کے تشدد کا شکار ہوتی ہیں جوکہ انتہائی افسوسناک بات ہے ، افسوس کی بات یہ ہے کہ چھوٹی بچیوں سے زیادتی کے واقعات میں بھی خوفناک اضافہ ہورہاہے ، گھروں میں کام کرنے والی کم عمر بچیاں جسمانی تشدد کا نشانہ بنتی رہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک تحقیقی کے مطابق دنیا بھر میں 35 فی صد خواتین اور لڑکیاں اپنی زندگی میں کسی نہ کسی قسم کے جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا کرتی ہیں، موجودہ دور میں دنیا بھر میں 70کروڑ خواتین کی شادی بچپن میں ہی کردی گئی ،جن میں سے ان میں سے 25 کروڑکی شادی 15 سال کی عمر سے پہلے ہوگئی ، بچیوں کی کم عمری کی شادی خواتین کے حقوق پر کاری ضرب ہے۔

 مس صائمہ رشید نے کہا کہ اس سال کی صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف 16 روزہ مہم جو آج ہی شروع ہورہی ہے جس میں تعلیم پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔جرنلسٹ محمد مظہر رشید چودھری نے کہا کہ موجودہ دور میں میڈیا خواتین کے حقوق کے حوالے سے موثر شعور اجاگر کر رہا ہے، گزشتہ دو دہائیوں سے اس سلسلہ میں تیزی بھی آئی ہے جو یقیناََ قابل تعریف ہے۔