ملتان، 26 نومبر (اے پی پی ): پنجاب وومنز اتھارٹی کی نئی چیئرپرسن رافیعہ کمال نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔پنجاب اسمبلی سے منظوری کے بعد صوبہ بھر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز پر قائم شیلٹرز ہوم اور بینظیر کرائسس سنٹرز کو انسداد تشدد مرکز برائے خواتین کا درجہ دینے کے ایکشن پلان پر عملی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا۔
شیلٹرز ہوم اور بینظیر کرائسس سنٹرز اپنے ذمہ فرائض کی انجام دہی جاری رکھیں گے اور ان دونوں مراکز کو اب انسداد تشدد مرکز برائے خواتین (واک ) کی طرح خواتین کو تشدد سے بچانے کیلئے قانونی کارروائی کرنے اور لیگل مدد براہ راست فراہم کرنے کے قانونی اختیارت بھی براہ راست تفویض کردیئے گئے ہیں محکمہ صحت کو بھی پابند بنایا جارہا ہے کہ خواتین کو تشدد سے محفوظ رکھنے کیلئے ناگزیر حالات میں بینظیر کرائسس سنٹرز اور شیلٹرز ہوم کو مطلوبہ طبی سہولیات فراہم کرے گا۔شیلٹرز ہوم اور بینظیر کرائسس سنٹرز کے ڈسٹرکٹ فوکل پرسن اب پنجاب وومنز اتھارٹی کے تحت قائم وائلنس اگینسٹ وومنز سنٹر کی معاونت کریں گے۔
دریں اثناء شیلٹرز ہوم بینظیر کرائسس سنٹرز کی طرف سے خواتین کو تشدد سے تحفظ فراہمی کے عمل کی فول پروف نگرانی کیلئے خصوصی مانیٹرنگ کمیٹیاں بھی ڈسٹرکٹ لیول پر تشکیل دی جارہی ہیں۔
ملتان کے اپنے پہلے دورہ کے موقع پر میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ پنجاب اسمبلی سے بل کی منظوری ہو چکی ہے اور اب نوٹیفیکیشن جاری کیا جارہا ہے جس کے تحت پنجاب بھر میں ڈسٹرکٹ لیول پر قائم تمام بینظیر کرائسس سنٹرز اور شیلٹرز ہوم کو بھی پنجاب وومنز اتھارٹی کی زیرنگرانی فعال انسداد تشدد برائے خواتین مرکز کی طرز پر خصوصی اختیارات دے دیئے جائیں گے جس کے تحت اب متاثرہ خواتین کو ڈسٹرکٹ سطح پر ہی ظلم کے خلاف انصاف کی فراہمی کیلئے ہمہ قسم کی قانونی مدد مفت میسر آئے گی۔











