ملتان،08 دسمبر (اےپی پی): کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے جعلی کھادوں، زرعی ادویات کیخلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ڈویژن میں جعلی زرعی ادویات فرٹیلائزرز قبول نہیں، کریک ڈاؤن کیا جائے۔ محکمہ زراعت افسران دفاتر سے باہر نکل کر فیلڈ مانیٹرنگ کریں۔ ان خیالات کا اظہار کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے محکمہ زراعت کارکردگی بارے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے سموگ کے تدارک کیلئے سخت اقدامات کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ فصلوں کی باقیات جلانے والوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ کسان کی روزی روٹی زمین سے جڑی ہے، اسکی دادرسی کریں۔ یوریا ڈی اے پی کی ارزاں نرخوں پر فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ڈیپ اور یوریا کی جوائنٹ سیل کو چیک کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کو فرٹیلائزر، یوریا ، کھاد کی فراہمی مقررہ نرخ پر یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ زیر التواءکیسوں کی مکمل پیروی کی جائے۔حکومت پنجاب کسانوں کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کررہی ہے۔حکومتی پالیسیوں کے ثمرات کاشتکاروں تک پہنچانے کیلئے زرعی افسران محنت کریں۔
ڈائیریکٹر زراعت شہزاد صابر نے بتایا کہ ڈویژن میں یوریا کھاد کی 2241 چھاپے مارے گئے، 888500 روپے جرمانہ کیا گیا۔ڈویژن میں 3 کروڑ17 لاکھ99ہزار905 ایکٹر زمین پر کاشت ہوتی ہے جبکہ 9409 ایکڑ پر جنگلات ہیں۔ 121412 ایکڑ پر آم، 43001 ایکڑ پر کینو، 46584 ایکڑ پر سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں۔ ڈویژن میں 14 لاکھ سے زائد کسانوں کو کسان کارڈ کیلئے رجسٹر کیا گیا۔
اجلاس میں ایڈیشن کمشنر سرفراز احمد ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر رضوان نذیر، اسسٹنٹ کمشنر محمد قاسم، محمد شفیق، متعلقہ افسران نے شرکت کی۔











