ملتان، 19جنوری(اے پی پی ): خاتون محتسب پنجاب نبیلہ حاکم خان نے کہا ہے کہ ملتان میں خاتون محتسب کے آفس کا قیام خوش آئند ہے ، محتسب آفس کے قیام سے خواتین کی ہراسانی اور جائیداد سے محرومی بارے شکایات کا ازالہ ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار خاتون محتسب پنجاب نبیلہ حاکم خان نے جمعرات کو یہاں ریجنل آفس ملتان کے دورہ اور بعدازاں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی شعبہ قانون میں سیمینار سے خطاب میں کیا۔ خاتون محتسب نے ریجنل دفتر میں سہولیات کا جائزہ لیا اور بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی شعبہ قانون میں سیمینار سے خطاب میں کام کی جگہ خواتین کی ہراسگی، وراثتی جائیداد میں حق تلفی کے قانون پر اظہار خیال بھی کیا۔
نبیلہ حاکم خان نے کہا کہ صوبہ بھر کے تمام ریجنل ہیڈ کوارٹرز پر خاتون محتسب کے دفاتر قائم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا اسلام میں خواتین کو انتہائی عزت اور وقار کا رتبہ حاصل ہے، خواتین کے لیے اللہ کے تعین کردہ حقوق دلانے کے لیے کوشاں ہیں۔
خاتون محتسب نے کہا کہ خواتین کو نفسیاتی تشدد،ہراسانی، کم عمر شادی اور جائیداد میں حصہ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جائیداد کی ملکیت سے محروم خواتین محتسب کو شکایت درج کرا سکتی ہیں ، صوبائی محتسب کی ہدایت پر متعلقہ ڈپٹی کمشنر15 یوم کے اندر انکوائری کا پابند ہوگا اور شکایت درج ہونے کے 60 دن کے اندر آرڈر جاری کیا جائے گا،
انہوں نے کہا کہ پنجاب وومن پروٹیکشن ایکٹ خواتین کو کام کی جگہ سازگار ماحول فراہم کرنے میں سنگ میل ثابت ہوا ہے ،جنسی ہراسگی کی شکایت پر تین یوم کے اندر ملزم کو نوٹس جاری کردیا جاتا ہےاورملزم کو پانچ دن کے اندر جواب جمع کرانے پابند بنایا گیا ہے۔
اس موقع پر کمشنر اشفاق احمد چودھری نے کہا پراپرٹی رائٹس ایکٹ کا مطلب وراثت میں خواتین کے حصے کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی خواتین کو ہر شعبے میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اور نجی اداروں میں جنسی ہراسگی کی شکایات پر سخت کاروائی ہوگی خاتون محتسب کا ادارہ خواتین کے لئے ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔
وفاقی محتسب کے ایڈوائزر محمود جاوید بھٹی ، سیکرٹری جنگلات سرفراز مگسی اور جنوبی پنجاب کے دیگر محکموں کے سیکرٹری بھی اس موقع پر موجود تھے۔











