راولپنڈی۔29جنوری (اے پی پی):صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا ہے کہ ڈاکٹروں کی نمائندگی کرنا اور مسائل حل کرنا بطور صوبائی وزیر صحت ترجیحات میں شامل ہے، ایمرجنسی طبی سہولیات میں بہتری توجہ طلب ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کریں گے۔انہوں نے یہ بات کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے 55 ویں کانووکیشن میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔سرجن جنرل پاکستان آرمی لیفٹیننٹ جنرل محسن محمد قریشی اور پریذیڈنٹ سی پی ایس پی پروفیسر ڈاکٹر محمد شعیب شفیع ، سی پی ایس پی کونسل کے ممبران، مختلف پروگراموں کے فیلو ڈاکٹرز، انکے والدین اور بچے بھی کانووکیشن میں شریک تھے۔ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے موقع دیا ہے، ہر ممکن کوشش کریں گے کہ ڈاکٹروں کو بہتر سہولیات میسر ہوں اور ہسپتالوں میں طبی ضرویات کی فراہمی کے عمل میں آسانی ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ دعوے سے کہتا ہوں سی پی ایس پی کا نظام شفاف ہے اور اس میں سفارش کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور یہ ادارہ ملک و قوم کی حقیقی معنوں میں خدمت کر رہا ہے۔وزیر صحت نے کہا کہ سی پی ایس پی کا امتحان پاس کرنا معمولی کام نہیں ہوتا اور یہ انتہائی محنت طلب اور تھکا دینے والا کام ہے، سی پی ایس پی حکام سے گزارش ہے کہ ایف پی ایس پی پارٹ ون کی دو سال کی شرط کو تین سال میں تبدیل کرنے کے بارے میں پالیسی بنائی جائے کیونکہ دوران سروس ڈاکٹرز کیلئے اس شرط پر پورا اترنا مشکل ہوتا ہے، سی پی ایس پی کے مطالبات پورے کرنے اور مسائل حل کرنے کیلئے اقدامات کریں گے اور وزیر اعلیٰ کو بھی اس بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔ اس موقع پر شعبہ گائنی میں گولڈ میڈل ڈاکٹر منیزہ ناصر اور پلمونالوجی میں ڈاکٹر جعفر خان کو دیا گیا، ایواڈ آف فیلو شپ شوکت خانم لاہور کے میڈیکل آفیسر پروفیسر آصف لویہ اور فیلو شپ ڈگری نیورو سرجن پروفیسر آصف بشیر کو دی گئی۔ مختلف پروگراموں میں پاس آؤٹ ہونیوالے فیلو ڈاکٹرز سے حلف لیا گیا جبکہ نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے والے فیلو ڈاکٹرز کو میڈلز دیئے گے۔











