قومی اسمبلی میں سانحہ پشاور پر بحث ، اراکین کا دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جامع پالیسی اور اقدامات کی ضرورت پر زور

13

اسلام آباد،3فروری(اے پی پی):قومی اسمبلی میں سانحہ پشاور پر بحث جمعہ کو بھی جاری رہی اور اراکین نے کہا کہ  ملک میں امن کے قیام اور معیشت کی بہتری کے لئے  سیاسی تقسیم ،نفرتوں کے  خاتمہ  اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جامع پالیسی اور اقدامات کی ضرورت ہے۔

 پی پی  پی کی رکن قومی اسمبلی ناز بلوچ نے کہا کہ سانحہ پشاورنے ہمارے دل دہلا دیئے ہیں ، ہم نے  اے پی ایس پشاورکے بچوں کے خون کا بدلہ نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ پورا پاکستان شہدا کے خاندانوں کے غم میں شریک ہے، مذمت  کے الفاظ کہنا کافی نہیں ہے، اب سب کو سرجوڑ کر پاکستان کے تحفظ اور امن کےلئے بات کرنی چاہئے،ہمیں سکیورٹی اہلکاروں کو بھی خراج تحسین پیش کرنا چاہئے جو اپنی جانوں پر کھیل کر اس طرح کے حملوں کو ناکام بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے مگرالمیہ یہ ہے کہ ایک سیاسی جماعت نے 4 برس میں ملک کو دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچا دیا، ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری کو روکنے کی سازشیں کی گئیں، کرنی ڈی ویلیو ایشن  اور بڑی صنعتوں کی پیداوار کو کم کیا گیا جب تک  ان کا  احتساب نہیں ہوگا ہم  آگے نہیں جاسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے خطے میں اس کےلئے کلیدی کردار ادا کیا، جس کی ہم نے بڑی قیمت ادا کی ، ہمارے 80 ہزار شہری اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے ۔

 انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ عمران خان نے  سابق صدر آصف علی زرداری پر بے بنیاد الزامات عائد کئے،کبھی یہ سائفر کا جھوٹ بولتے ہیں کبھی امریکی سازش کا الزام عائد کرتے ہیں، عمران خان کو پاگل پن کی کیفیت  سے باہر نکالنے کےلئے سب کو اپنا کردارادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ پشاور پر نفرتوں کے بیج بونے کی ضرورت نہیں ہے، یہ عمران خان کا نہیں بلکہ قائداعظم کا پاکستان  ہے  ، سیاسی تقسیم اور نفرت کی سیاست کا یہ ملک متحمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان ایک معزز فورم ہے، پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا  کرنا ہوگا اور ثابت کرنا ہوگا کہ جمہوری اقدار پرعملدرآمد کرانا ہماری ذمہ داری ہے، پاکستان  ہماری پہلی شناخت ہے اس کے بعد ہماری سیاسی شناخت ہے ، ملک کو بچانے کےلئے جسم سے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے۔

صلاح الدین ایوبی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سانحہ پشاور درد ناک اور افسوس ناک ہے ، پوری قوم اس درد میں شریک ہے، بدامنی  اور امن کی ذمہ داری ہم سب سے عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنا ملبہ کسی اور پر نہیں ڈالنا چاہئے، افغانستان میں  امارات اسلامی کے بعد امن ہے ، افغانستان کی سرحدیں کئی ممالک سے ملی ہیں مگر وہاں امن ہے اور یہاں بدامنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ  سابق دور اور طالبان حکومت کے ادوار میں پاکستان کے اندر خودکش حملوں اور دہشت گردی کے واقعات کا تقابلی جائزہ پیش کرنا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ  پاکستانی ایک قوم اور ایک جسم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کی پالیسیوں کی وجہ  سے پاکستان میں بدامنی ہے جبکہ معیشت بھی تباہ حال ہے، عمران خان انتقامی سیاست کرتے تھے مگر ہم اصولی سیاست بھی نہیں کرسکتے، ہم ان کو قانون کے دائرہ کار میں نہیں لاسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی میں سنجیدگی ضروری ہے، اگرگلہ شکوہ ہے تو ان سے مذاکرات کئے جائیں اس سے امن اور معیشت پر اچھے اثرات آئیں گے۔