خیبر پختونخوا ،نگران وزیراعلیٰ کی زیر صدارت صحت کارڈ اسکیم سے متعلق اجلاس کا انعقاد

12

پشاور، 15 مارچ (اے پی پی):نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان کی زیر صدارت بدھ کو صحت کارڈ اسکیم سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ کے مشیر برائے صحت ،سیکرٹری خزانہ، پراجیکٹ ڈائریکٹر صحت کارڈ اسکیم اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع وزیراعلیٰ کو صحت کارڈ اسکیم سے متعلق مختلف امور پر بریفنگ دی گئی۔ نگران وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ صحت کارڈ اسکیم کے تحت صوبے کے 97 لاکھ خاندان علاج معالجے کی مفت سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں ، صحت کارڈ اسکیم  پر سالانہ 28 ارب روپے لاگت آرہی ہے، صحت کارڈ کے تحت علاج معالجے کی مفت سہولیات نجی اور سرکاری دونوں ہسپتالوں میں فراہم کی جا رہی ہیں اور اس مقصد کے لئے نجی و سرکاری سطح پر 1139 ہسپتالوں کو پینل میں شامل کیا گیا ہے۔ اجلاس میں صحت کارڈ اسکیم کے معاملات کو مزید بہتر اور منظم انداز میں چلانے سے متعلق امور پر غور و خوص کیا گیا۔

اجلاس میں شعبہ صحت کے ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ کمیٹی صحت کارڈ اسکیم کے امور کو مزید بہتر انداز میں چلانے اور اس میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لئے قلیل المدتی اور طویل المدتی اقدامات تجویز کرے گی۔ کمیٹی قلیل المدتی اقدامات کے لئے ایسی تجاویز پیش کرے گی جو صرف نگران حکومت کے مینڈیٹ میں ہونگی۔ طویل المدتی اقدامات اگلی حکومت کے لئے بطور تجاویز پیش کیے  جائیں گے۔ کمیٹی دیہی علاقوں کے ہسپتالوں میں سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے سے متعلق بھی تجاویز پیش کرے گی۔اس موقع پر نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان نے کہا کہ صحت کارڈ اسکیم عوامی فلاح و بہبود کا ایک اچھا پروگرام ہے، اس پروگرام میں موجود خامیوں کو دور کرکے اسے مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس پروگرام کا زیادہ سے زیادہ فائدہ عوام کو پہنچے۔ نگران وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہسپتالوں کی مرمت کے لئے مختص شدہ فنڈز کے استعمال سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔