کوئٹہ،28مارچ (اے پی پی):گوادر بندرگاہ نے گندم کی ترسیل و پروسسنگ میں ملک کی دیگر بندرگاہوں کو پیچھے چھوڑ دیا، گوادر بندرگاہ کے ذریعے گندم کی درآمد سے گوادر میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا،گوادر پورٹ پر تیز ترین سٹیوڈورنگ سروسز کے ساتھ ساتھ کوئی ڈیمریج اور اسٹوریج چارجز نہیں ، گوادر بندر گاہ پر گندم لانے والے کل نو جہازوں میں سے اب تک چار جہاز جن میں ایم وی لیلا چنئی، ایم وی رچ، ایم وی ویروڈا اور ایم وی ڈوراڈو شامل ہیں، پہنچ چکے ہیں ۔
گوادر سی او پی ایچ سی کے احکام نے کہا کہ مشکلات کے باوجود گوادر بندرگاہ گزشتہ 25 دن میں روس سے دو لاکھ میٹرک ٹن گندم کی درآمدکو تیزی سے نمٹانے کے لئے کوشاں ہے۔ان کہنا تھا کہ گوادر بندرگاہ پر 2 مارچ سے جب پہلا جہاز لنگر انداز ہوا تو گندم کے اخراج اور ترسیل کے لیے صفر ہینڈلنگ نقصان دیکھا گیاانہوں نے بتایا کہ تمام لوڈنگ، آف لوڈنگ اور ٹرانسپورٹیشن کو درستگی کے ساتھ ہینڈل اور انتظام کیا گیا ہے ، ایسٹ بے ایکسپریس وے جو خصوصی طور پر گوادر پورٹ کو مکران کوسٹل ہائی وے سے جوڑتا ہے شہر کی سڑکوں کو بائی پاس کرتے ہوئے گندم سے لدے ٹرکوں کی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہونے والا واحد راستہ ہے۔
اس حوالے سے گوادر میں موجود ایک ٹرانسپورٹر کا کہنا تھا پہلے ٹرک گوادر کی رش والی سڑکوں سے گزرتے تھے جو نہ صرف مقامی شہر پر پر اضافی بوجھ ڈالتے تھے بلکہ ٹرکوں کی نقل و حرکت کو بھی متاثر کرتے تھے ۔انھوں نے مزید بتایا کہ ایسٹ بے ایکسپریس کے ساتھ گوادر پورٹ کے رابطے نے سرگرمی کو ہموار کر دیا ہے۔ چائنہ اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی، ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان، پاکستان ایگریکلچرل سٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن لمیٹڈ، پاکستان کسٹمز اینڈ نیشنل لاجسٹک سیل، گوادر فری زون اور جی آئی ٹی ایل تمام کام کیلئے ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے اہلکار نے بتایا کہ گوادر پورٹ سے جی ٹو جی انتظامات کے تحت مختص کردہ گندم کو اٹھانے کے لیے این ای سی مختصر ترین اور قابل عمل راستے سے پاسکو اسٹوریج سینٹرز تک گندم پہنچا رہا ہے۔اس سلسلے میں گوادر انٹرنیشنل ٹرمینلز لمیٹڈ کے عہدیدار نے بتایا کہ گوادر پورٹ نے 200000 میٹرک ٹن کامیابی سے ہینڈل کیا، باقی 250000 میٹرک ٹن گندم کی پروسیسنگ اسی کے مطابق کی جائے گی انہوں نے گوادر بندرگاہ کے ذریعے گندم کی درآمد کو ایک نیا سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ گندم کی درآمد سے گوادر میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ روزگار کی صلاحیت کو بھی فروغ دے گا ۔











