ملتان ،05 مئی(اے پی پی ): ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس و پلاننگ ملک محمد سمیع نے کہا ہےکہ ضلعی انتظامیہ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ساتھ مل کر کپاس کے فروغ کے لئے کوشاں ہے اور ہم مشترکہ کاوشوں سے کپاس کی پیداوار میں اضافے کے لئے کپاس کے سیزن میں مختلف حکمت عملی پر کام کریں گے۔
یہ بات ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس و پلاننگ ملتان ملک محمد سمیع نے سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں کپاس کی پیداواری ٹیکنالوجی سے متعلق ضلع ملتان سے تعلق رکھنے والے محکمہ زراعت توسیع کے 65 سے زائد آفیسران و عملہ کے تربیتی شرکاءسے اپنے خطاب میں کہی۔ ان کا مزید کہنا تھا ہم ضلع ملتان میں کپاس کے کاشتکاروں کی رہنمائی وتربیت کے لئے سی سی آر آئی کے زرعی سائنسدانوں کے تجربات ومشاہدات سے فائدہ اٹھائیں گے اور ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی، کپاس کی ترقی وفروغ کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے کاٹن کمشنر ڈاکٹر زاہد محمود نے تربیتی شرکاءسے اپنے آن لائن خطاب میں کم خرچ میں کپاس کی زیادہ پیداوار کے لئے لیف ٹیکنالوجی کی اہمیت اور اس کے استعمال بارے تفصیل سے بتایا۔ ڈاکٹر زاہد محمود کا کہنا تھا کہ کپاس کے کاشتکار کم خرچ اور ماحول دوست طریقہ کاشت یعنی لیف ٹیکنالوجی کے استعمال سے زمین کی زرخیزی اور فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ اخراجات کوبھی کم کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر زاہد محمود نے کہا کہ لیف ٹیکنالوجی کے استعمال سے زمین میں بار بار ہل چلانے کی نوبت نہیں آتی جس کا فائدہ یہ ہے کہ زمین میں بار بار ہل چلا کر ہم زمین کی صحت کو خراب کرنے سے بچا سکتے ہیں۔ہل چلانے کے بار بار عمل سے زمین میں موجود مفید جرثومے اور نامیاتی مادہ بتدریج کم ہوتے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ لیف ٹیکنالوجی کی مدد سے کپاس کی فصل میں کھاد،پانی اور دیگر زرعی مداخل کا استعمال بھی بہت کم ہوتا ہے جس سے کپاس کی پیداواری لاگت میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے اور کپاس کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ مونجی کی پرالی اور گندم کی بھوسی وغیرہ زمینی ٹمپریچر کو نہ صرف معتدل رکھتے ہیں بلکہ کچھ عرصہ میں گل سڑ کر زمینی کی زرخیزی میں خاطر خواہ اضافہ بھی کرتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی اہم خاصیت یہ بھی ہے کہ زیادہ بارشیں بھی اس طریقہ کاشت سے فصل پر اثر انداز نہیں ہوتیں اور نہ ہی جڑی بوٹیوں کا اگاؤ ہوتا ہے،اس طرح جڑی بوٹیوں کی تلفی کے اخراجات میں بھی کمی آتی ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر شجاع آباد ڈاکٹر فیاض علی جتالہ کا کہنا تھا کہ موجودہ کپاس کے سیزن میں کپاس کے کاشتکاروں کی رہنمائی وتربیت کے لئے سی سی آرآئی کے زرعی ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
تربیتی شرکاءسے سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے زرعی ماہرین ڈاکٹر محمد نوید افضل ،ڈاکٹر فیاض احمد اور ڈاکٹر رابعہ سعید نے بھی کپاس کی پیداواری ٹیکنالوجی سے متعلق خطاب کیا۔ آخر میں شعبہ ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی کے سربراہ ساجد محمود کی جانب سے تربیتی شرکاءکو لیف ٹیکنالوجی سے متعلق لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔











