ہمسایوں سے تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں، پاکستان نے دہشت گردی کےخلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں؛ افغان وزیر خارجہ امیرخان متقی

23

 

اسلام آباد،8مئی(اے پی پی):افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیرخان متقی نے کہا ہے کہ پاکستان اور وسطی ایشیائی ممالک سے تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں، پاکستان نے دہشت گردی کےخلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں، ہماری خارجہ پالیسی باہمی روابط اور مذاکرات پر استوار ہے، پاک افغان تعلقات معاشی اورعوامی رابطوں سے مربوط ہیں۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیرکو یہاں انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز اسلام آباد  میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں سابق سیکرٹری خارجہ اور انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ سہیل محمود ، سفارتکاروں، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات اور صحافیوں نے شرکت کی۔

 امیر خانہ متقی نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کو انفراسٹرکچر پر ایک ساتھ سرمایہ کاری کرنےکی ضرورت ہے  ، دونوں ملکوں نے توانائی کے شدید بحران کا سامنا کیا ہے، 20 ماہ قبل برسراقتدار آنے کے بعد افغانستان میں امن قائم ہے اورملک کو کسی خانہ جنگی یا انتشار کا سامنا نہیں ہے، افغانستان میں اس وقت مثالی امن ہے ، تاجرملک میں کاروبار کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے رسمی اورغیررسمی بات چیت ہوتی رہتی ہے، پاکستان کے ساتھ ہمارے تاریخی ، ثقافتی  اور بھائی چارے پر مشتمل تعلقات قائم ہیں ۔

 امیر خانہ متقی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ افغانستان کی سرزمین کو ٹی ٹی پی سمیت کسی دہشت گردی کو استعمال کرنےنہیں دیں گے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں، پاکستان نے 80 ہزار جانوں کی قربانی دی اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، ہماری خواہش ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں امن قائم ہو۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ہماری حکومت کو قائم ہوئے 20 ماہ ہوچکے ہیں ، ہماری خارجہ پالیسی باہمی روابط پر استوار ہے۔ افغانستان میں حکومت قائم ہونے کے بعد ہمیں مشکل صورتحال دوچار تھی ، ہم نے کئی چیلنجز پر قابو پالیا ہے، ہم پاکستان سمیت دیگرملکوں کے ساتھ تعاون پرمبنی تعلقات قائم کررہے ہیں، پاکستان کے ساتھ ساتھ خطے کے دیگرملکوں کے ساتھ اقتصادی رابطوں کو بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ باہمی تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ میں پیشرفت ہوئی ہے ، مزید شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔

امیر خان متقی نے کہا کہ اگست 2021 میں ہمیں ایسا سیاسی نظام ورثے میں ملا جو غیرملکی امداد پر انحصار کرتا تھا،حکومت سنبھالی تو خزانہ خالی تھا اورغیرملکی معاونت بند ہوگئی ، ان چیلنجز کے باوجود نیشنل سکیورٹی فورسز کی تنظیم نو کی گئی ، حکومت نے تمام اداروں کو فعال کیا ، اداروں میں شفافیت لائی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 20 سال میں پہلی بار بجٹ ملکی وسائل سے تیارکیا اور اس میں کوئی بیرونی معاونت شامل نہیں۔   اقتصادی دبائو کے باوجود ہم نے تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ کیا، ہماری توجہ افغانستان کی معیشت ہے ، افغانستان نے صحت ، زراعت اوردیگرشعبوں میں بھی ترقی کی ہے، ہم افغانستان میں روزگار کےلئے بھی کوششیں کررہے ہیں۔

 افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ  امیر خان متقی نے کہا کہ افغانستان کے راستے پاکستان اور وسط ایشیائی ممالک کے درمیان رابطوں کو استوار کرنے کےلئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں ، خواہش ہے کہ پاکستان کو افغانستان کے راستے ترکمانستان سےگیس کی فراہمی ممکن ہوسکے، کاسا1000، افغان ٹرانس، ریلویز اور وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ رابطے ہماری ترجیح ہے اس کے نتیجہ میں خطے کے ممالک کے درمیان باہمی روابط میں اضافہ ہوگا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز  اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل سہیل محمود نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن واستحکام کے لئے اپنا بھرپورکردار ادا کررہا ہے ، ہم افغانستان میں انسانی اوراقتصادی بحران سے نمٹنے کےلئے کوشاں ہیں ، دونوں ملکوں کے درمیان باہمی رابطوں کا عمل جاری ہے، پاکستان نے افغانستان کی ٹھوس اور بھرپور حمایت کی ہے، پاکستان نے افغانستان میں اگست 2021 میں حکومت کی تبدیلی کے بعد  غیرملکی  شہریوں اورامدادی اداروں کے کارکنوں کے انخلاء میں  مدد کی ، اسلام آباد میں  افغانستان بارے او آئی سی کانفرنس کا انعقاد کرایا۔ انہوں نے  کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے مالیاتی اثاثے غیرمنجمد کرنے اور اس پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی وکالت کی ہے۔

سہیل محمود نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان جغرافیائی ،مشترکہ تاریخ ، زبان اورمذہبی رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں ، پرامن افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے، ہماری خواہش ہے کہ افغانستان میں سیاسی استحکام آئے اورملک میں دیرپا بنیاد وں پر خوشحالی قائم ہوجائے۔