اسلام آباد،16مئی(اے پی پی):قومی اسمبلی میں منگل کو کئی ارکان نے نکتہ ہائے اعتراض پر مختلف امور اور مسائل کو اجاگر کیا۔ ارکان نے ملک کی جاری سیاسی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور حالیہ پرتشدد مظاہروں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
منگل کو قومی اسمبلی میں نکتہ ہائے اعتراض پر احمد حسن دیہڑ نے کہا کہ اس وقت مہنگائی بڑا مسئلہ ہے اور چیف جسٹس کو اس پر سوموٹو لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اداروں پر ناپاک حملے ملک کی بقاء پر ہو رہے ہیں، شام، عراق کی طرح فوج پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، سکیورٹی اداروں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونا چاہئے، ایسے لوگوں کی حمایت نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں مسلح افواج اپنے شہداء کیلئے کاروبار کرتی ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ یہاں ڈیفنس میں رہنے والے مسلح افواج پر حملے کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کھلاڑی نے 4 سال میں اس ملک کی معیشت کو برباد کر دیا ہے، اس وقت ایک سازش کے تحت مسلح افواج کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور نوجوانوں کو اس کا ادراک کرنا ہوگا، سی پیک پاکستان کی لائف لائن ہے، بھارت اس کے خلاف سازش کر رہا ہے، یہ سازشیں ناکام ہوں گی کیونکہ ہماری مسلح افواج مضبوط ہے، جس نے 4 سال سے سی پیک کو روکا ہوا ہے وہ پاکستان کا دوست نہیں ہو سکتا۔
ایم کیو ایم کی کشور زہرہ نے کہا کہ کراچی میں معذور افراد کیلئے انہوں نے خصوصی سپورٹس کمپلیکس بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 15 سالوں سے معذور افراد کیلئے ایک بل زیرالتواء ہے، اس کو منظور کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔
قادر خان مندوخیل نے کہا کہ توہین پارلیمان بل کی منظوری خوش آئند ہے، اس ایوان کے احکامات کو بیوروکریسی نہیں مانتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ اور بیوروکریسی کے مقابلہ میں ارکان پارلیمان کی تنخواہیں کم ہیں۔ سیّد محمود شاہ نے کہا کہ سوڈان میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی میں پاکستانی سفیر نے اہم کردار ادا کیا ہے، انہیں قومی اعزاز دیا جائے۔
آغا رفیع اللہ نے کہا کہ قاسم نون نے پارلیمان کے وقار میں اضافہ کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاور کمپنیوں کے حوالہ سے ایک بل اس ایوان نے منظور کیا تھا، واپڈا والے فیڈرز بند کرتے ہیں جس سے وہ صارفین بھی متاثر ہو رہے ہیں جو بل ادا کر رہے ہیں، مذکورہ بل منظوری کے باوجود ابھی تک زیرالتواء ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق اسٹیبلشمنٹ کے لگائے ہوئے لوگ اب بھی اداروں میں موجود ہیں، ان کی نشاندہی ضروری ہے، اس وقت پارلیمان کو فیصلے کرنے کی ضرورت ہے، جب تک ہم فیصلے نہیں لیں گے تو ہمارا کوئی والی وارث نہیں ہوگا۔











