لاہور، 28 جون(اے پی پی): وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کے ماسٹر مائنڈز کو سزا دینا ناگزیر ہے، ایک شخص کو سہولت دینے کے لئے جو کانٹے بوئے گئے اس کا خمیازہ عوام بھگت رہی ہے، ملکی معیشت کی تباہی وبربادی کے فیصلوں پر تنقید ہونی چاہیے، محمد نواز شریف اڑھائی گھنٹے کی دوری پر ہیں جلد پاکستان آئیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ میاں جاوید لطیف نے کہا کہ 9 اور10 مئی کے واقعات میں ملوث سہولت کار اور ماسٹر مائنڈ جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو اسے سزا ضرور ملنی چاہیے، ایسے لوگوں کو چوک چوراہوں میں سنا اور لٹکایا جائے ،یہ ایک ادارے پر نہیں پاکستان کی ریاست اور سلامتی پر حملہ ہے۔ہم شروع دن سے کہہ رہے تھے کہ سہولت کاری ہو رہی ہے جو آج ثابت ہو گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمارا ہدف ان لوگوں کو سزا دینا نہیں بلکہ ہمارا ہدف فیصلہ کر کے تفریق پیدا کرنے والے ہیں ۔
میاں جاوید لطیف نے کہاکہ انتخابات کی آڑ میں پاکستان کی جو تباہی انہوں نے کرنی تھی وہ آج ثابت ہو گئی ،نو اور دس مئی کے ماسٹر مائنڈ کو کوئی رعایت ملی تو قوم اسے برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ خود احتسابی کا عمل ایک اچھا عمل ہے ،یہ پاکستان کی پریشان حال قوم کے لیے نوید ہے ۔اگر ایک طاقتور ادارہ اپنی خود احتسابی کا عمل شروع کرتا ہے تو خوش آئند ہے ،دیگر اداروں کو بھی خود احتسابی کے عمل سے گزرنا چاہیے ،ایک ادارے نے خود احتسابی کر کے دوسروں کے لیے مثال قائم کی ہے ۔امید ہے انصاف فراہم کرنے والا ادارہ بھی اس عمل سے گزرے گا۔ جن لوگوں نے صرف ایک شخص کو تاج پہنانے کے لیے غلط فیصلے کئے وہ بھی خود احتسابی سے گزریں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حاضر سروس کے ساتھ ساتھ اس پراجیکٹ کو لانچ کرنے والوں کو گرفتار کر کے سزا نہ ملی تو خدانخواستہ نو مئی جیسا واقعہ دوبارہ ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کوئی ادارے میں ہو یا باہر ہو پاکستان سب کو مقدم ہے ،اداروں میں بیٹھے لوگوں پر ماضی میں بھی تنقید ہوتی رہی ہے ،جن فیصلوں سے پاکستان کے حالات خراب ہوتے ہیں ایسے فیصلوں پر تنقید کرنا لازم ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جو پٹیشن لے کر گئے ہیں کہ آرمی ایکٹ کے تحت سزا نہیں ہونی چاہیے ان سے پوچھنا چاہیے کہ آرمی ایکٹ کب بنا تھا ، جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں پاکستان کا قانون جائے بھاڑ میں انہوں نے صرف ایک شخص کو بچانا ہے ، ایسے لوگ جو گرین کارڈ ہولڈر بننے کی خواہش رکھتے ہیں وہ اس کا ساتھ دے رہے ہیں ۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سہولت کاری کے ثبوت مل چکے ہیں ایک بندے کو بچانے کے لئے پاکستان کی تباہی کی جا رہی ہے، ۔ انہوں نے کہاکہ دو ہزار سترہ میں جو کلچر سامنے آیا تھا اس پر بھی آواز اٹھانی چاہیے،نو مئی کے فیصلوں کے حوالے سے اس کلچر کو روکیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہاکہ پارٹی قائد محمد نواز شریف اڑھائی گھنٹے کی دوری پر ہیں جلد پاکستان آکر انتخابی اتحاد سے متعلق خود بتائیں گے۔نواز شریف کا ماضی گواہ ہے کہ جب جب وہ حکومت میں آئے ملک میں ترقی اور خوشحالی آئی، ان کی فہم و فراصت، تجربہ اور عالمی سطح پر اعتماد ملک کو دلدل سے نکال سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں ملک کی بربادی ہوئی ، ان کے دور میں ہونے والے ملکی نقصان کی لمبی فہرست ہے ، پی آئی اے کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گزشتہ حکومت کے ایک فیصلہ سے اس اہم قومی ادارے کو 67 ارب سالانہ کا نقصان ہوا۔
میاں جاوید لطیف نے کہا کہ پاکستان کو اس بھنور سے نواز شریف ہی نکال سکتے ہیں ۔قوم کے ساتھ اداروں میں بیٹھے لوگ بھی حالات کو دیکھتے ہوئے مان رہے ہیں کہ نواز شریف کے بغیر پاکستان کا چلنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے ،ابھی وہ باہر بیٹھ کر ہدایت دے رہے ہیں تو روس سے تیل اور گیس آ رہی ہے،جب نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم بنیں گے تو ملک میں خوشحالی کا نیا دور شروع ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن نے ماضی میں دو بار بغیر انتخابی اتحاد کے دو تہائی اکثریت حاصل کی، 2018 میں پنجاب میں اکثریت کے باوجود ہمیں حکومت نہیں بنانے دی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ آج ملک میں ووٹر آزاد ہے یہی نواز شریف کا نعرہ تھا کہ ووٹ کو عزت دو۔
ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ نواز شریف کا خیال ہے کہ پچھلے چار پانچ سالوں میں جس پارٹی ورکر نے وفا کی اس کو ٹکٹ دی جائے گی ، نواز شریف پچاس فیصد نئے چہرے آگے لانا چاہتے ہیں ،موجودہ اراکین اسمبلی جو پارٹی کے ساتھ مکمل طور پر نہیں چلے ان کے حوالے سے بھی فیصلہ محمد نواز شریف کریں گے۔











