چیئرمین پی ٹی آئی مکافات عمل کا شکار ہو کر گرفتار ہوئے ہیں، الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

27

اسلام آباد۔7اگست  (اے پی پی):وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی مکافات عمل کا شکار ہو کر گرفتار ہوئے ہیں، الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں، نظام کو آئندہ بہتر انداز میں چلانے کیلئے ہمیں مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہئے جس کیلئے ماضی کی سیاست سے ہٹ کر ہمیں نئے رولز آف گیم طے کرنے ہونگے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کا یہ الوداعی سیشن ہے، پانچ سال پہلے  میں نے اس ایوان کے رکن کا حلف اٹھایا تھا مجھے اس ایوان میں جو تجربات حاصل ہوئے ہیں وہ ہمیشہ یاد رہیں گے۔ مجھے فخر ہے کہ میں اس ایوان کا رکن منتخب ہوا اور مجھے فخر ہے کہ پارلیمنٹ ہائوس کا سنگ بنیاد رکھنے کے حوالے سے ذوالفقار علی بھٹو شہید کے نام کی تختی لگی ہوئی ہے۔ ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ ہم اپنے بڑوں کی توقعات پر پورا اتریں، بعض معاملات میں ہم نے توقعات پوری کیں اور بعض معاملات میں ہم نے توقعات پوری نہیں کی ہوں گی۔ محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے میری جو تربیت کی ہے اس کے تحت میں نے کسی کو گالی نہیں دی اور گالی دینا پیپلز پارٹی کا بھی کلچر نہیں تھا۔ ہم نے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی جمہوری دائرے کے اندر رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے احتجاج کے دوران بھی یہ خیال رکھا کہ ہم سے کوئی ایسا کام نہ ہو جس سے جمہوریت کا نقصان ہو اور کوئی تیسری قوت اس کا فائدہ اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عدم اعتماد کے ذریعے سابق وزیراعظم کو نکالا، تمام جماعتوں کے اتحاد کی وجہ سے ہم کامیاب ہوئے اور تاریخ رقم کی، پارلیمنٹ میں ووٹ کے ذریعے ہم نے وزیراعظم کو گھر بھجوایا۔ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو ہماری کوشش رہی کہ پارلیمنٹ کو بالادست بنایا جائے اور جمہوریت کو مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہوتی ہیں، حکومت جمہوری انداز میں اپنا کام کرے اور اپوزیشن کو بھی چاہئے ہوتا ہے کہ وہ ایک دائرے کے اندر رہتے ہوئے تنقید اور احتجاج کرے۔ مگر افسوس کہ ہمیں اس جماعت کا سامنا تھا جنہیں آئین ، جمہوریت اور پارلیمنٹ سمیت کسی بات کا پتہ نہیں تھا انہوں نے وہ ریڈ لائنز بھی کراس کیں جن کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ ہم نے محترمہ بینظیر بھٹو کی شہاد ت پر بھی یہ ریڈ لائن کراس نہیں کی۔ مگر سابق حکومتی جماعت نے 9 اور 10 مئی کے واقعات کر کے ساری حدود پھلانگ دیں، نفرت کی سیاست سے ریاست ، جمہوریت اور سیاست سب کو نقصان پہنچا ہے۔ ہم اب الیکشن کی طرف بڑھ رہے ہیں، ہماری سیاست اور تمام کوششیں اس طرف ہونی چاہئیں کہ اس نظام کو چلانے کیلئے مفاہمت کی طرف معاملات کو لے کر جانا چاہئے۔ نیا میثاق جمہوریت نہ بھی ہو تو اس سے باہر جماعتوں کو بھی اس پر متفق ہونا پڑے گا، ہمیں آپس میں رولز آف گیم طے کرنا ہونگے۔ تمام اداروں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا چاہئے۔ اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کو نہ صرف سوچنا چاہئے بلکہ اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ چیئرمین پی ٹی آئی مکافات عمل کا شکار ہو کر گرفتار ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مسائل سے نکالنے کیلئے ہمارے پاس پندرہ سولہ ماہ کا وقت انتہائی کم تھا زیادہ تر وقت اسلام آباد میں ہمیں دھرنوں اور جلائو گھیرائو کا سامنا رہا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل ملک کے اثاثہ ہیں اور یہی وہ طبقہ ہے جو ملک کو آگے لے جا سکتا ہے۔ تمام جماعتیں نوجوان نسل پر توجہ مرکوز کریں۔