پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا راز جمہوریت میں مضمر ہے، قومی اسمبلی کے الوداعی اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی کا اظہار خیال

21

اسلام آباد،9اگست  (اے پی پی):قومی اسمبلی کے الوداعی اجلاس میں ارکان نے قومی اسمبلی کی میعاد کی تکمیل کو جمہوریت کے لئے نیک شگون قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا راز جمہوریت میں مضمر ہے۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے رکن اسمبلی افضل ڈھانڈلہ نے کہا کہ اسمبلی کی مدت ختم ہونے پر خوشی ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے غریب کے لئے کچھ نہیں کیا۔جمیعت علماء اسلام (ف) کے رکن سید محمود شاہ نے کہا کہ ایوان کا شکریہ اداکرتے ہیں کہ تحفظ ناموس صحابہ متفقہ منظور کیا، عمران خان کی حکومت میں ہمیں فنڈز نہیں ملے، اس لئے حلقہ کے عوام کی خدمت سے محروم رہے، بلوچستان کی جماعتیں متفق ہوتیں تو بلوچستان پسماندہ نہ ہوتا، گوادر یونیورسٹی گوادر میں بننی چاہئے۔

پیپلز پارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ نے کہا کہ میں اپنے حلقہ کے ووٹروں، اپنی جماعت اور قیادت کی جانب سے اعتماد کرنے پر شکریہ اداکرتا ہوں، ہم اس ہائوس کو طاقت کا سرچشمہ سمجھتے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کی رکن مہناز اکبر عزیز نے اسمبلی کی مدت پوری کرنے پر مبارکباد پیش کیاور کہا کہ  براہ راست نشستوں پر خواتین کے حادثاتی حصہ لینے کی مثالیں زیادہ ہیں، آئندہ براہ راست خواتین کو ٹکٹ دیئے جائیں، خواتین کی ایوان میں تعداد بڑھنی چاہئے، اس پارلیمان میں خواتین و بچوں کے لئے اچھی قانون سازی ہوئی، چائلڈ رائٹس کاکس بنایاگیا۔ تحریک انصاف کے رکن احمد حسین ڈیہر نے کہا کہ ہم نے اپنے پانچ سال پورے کئے اب ہمارے حلقہ کے ووٹروں نے فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے اس کے لئے کیا کیا، میں نے اپنے حلقہ میں جھوٹے پرچوں،تھانہ کچہری سے بچایا۔

قادرخان مندوخیل نے ملازمین بحالی کمیٹی کی کارکردگی سے آگاہ کیا۔ سپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ملازمین بحالی کمیٹی کی سفارشات پرعملدرآمد کی تمام وزارتیں پابند ہیں۔ ریاض مزاری نے کہا کہ ہمارے مسائل کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی،جنوبی پنجاب محاذ بنایا کامیاب نہیں ہوئے،نوکریاں نہیں ملیں، اللہ کرے نئی اسمبلی میں ایسے لوگ آئیں جو لیڈروں کی خوشامد سے گریز کریں اور اپنے حلقہ کے ووٹروں کے لئے کام کریں۔ احسان الحق باجوہ نے کہا کہ اللہ پاکستان کی خیر کرے، عمرانی فتنے کی وجہ سے ملک ڈیفالٹ کے نزدیک تھا لیکن اتحادی حکومت نے مشکل سے ملک کو نکالا، نواز شریف کو اقتدار سے نکالنے کے بعد ملک خسارے میں رہا۔

 ہاشم نوتیزئی نے کہا کہ پارلیمان کی مدت مکمل ہو رہی ہے،اپنے حلقہ کے عوام کا شکرگزار ہوں جنہوں نے ہم پر اعتماد کیا۔ نفیسہ شاہ نے کہا کہ اپنی قیادت اور حلقہ کے ووٹروں کے اعتماد کو آئندہ بھی ٹھیس نہیں پہنچائیں گے، پانچ سال میں نفرت کی سیاست پروان چڑھی۔ مسلم لیگ (ق) کی رکن فرح خان نے کہا کہ میں نے اس ایوان میں ارکان سے تحمل مزاجی بھی سیکھی لیکن زیادہ تر تصادم کا سامنا رہا، شہباز شریف نے ڈیڑھ سال بڑی محنت کی، اس کو سراہتے ہیں، انہوں نے  آئی ایم ایف سے معاہدہ سے ملک کو ڈیفالٹ سے نکالا۔

 رمیش کمار وینکوانی نے کہا کہ سیاست میں تحمل اور برداشت ضروری ہے، ہم نے گالم گلوچ کی سیاست دیکھی، ہم نے زیادتی پر بھی غصہ نہیں دکھایا، مخصوص نشستوں پر براہ راست انتخاب ہونا چاہئے۔ وزیر پارلیمانی امور مرتضی جاوید عباسی نے مدت پوری کرنے پر سیاسی قیادت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سپیکر کی کرسی پر بیٹھے شخص کی رولنگ کے بعد اسمبلی تحلیل کی، اس پر سب کو کھڑے ہونا چاہئے، اس ایوان کے ممبران نے جدوجہد کی اور اسمبلی بحال ہوئی تاہم آئین شکنی کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکی،یہ ہماری کوتاہی ہے، پی ٹی آئی فارورڈ بلاک مبارکباد کی مستحق ہیں جنہوں نے اس قوم کو گزشتہ حکومت سے نجات دلائی، اس کو اقتدارسے آئینی طریقے سے ہٹایا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس ایوان میں عوام نے کیوں بھیجا ہے، یہاں قانون سازی میں ان ارکان کی رائے شامل ہوتی ہے، اپنے ادارے کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے، اس ایوان نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اپنا سیاسی مستقبل قربان کیا یہ بڑی قربانی ہے، پاکستان کو ناامیدی سے نکالا گیا، سیلاب کی تباہ کاریاں تھیں، ملک ڈیفالٹ ہونے سے بچانا اس ایوان کا اعزاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوم میں اب امید پیدا ہوئی،جب تک سیاسی قیادت قوم کے مفاد کو مدنظر نہیں رکھے گی نظام نہیں بدلے  گا ۔ملک کی عدلیہ میں اربوں روپے کے حکم امتناعی دیئے گئے ہیں، پیسکو کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کابینہ نے دیا اور جنوری سے اس پر حکم امتناعی دیا ہوا ہے، پورے پاکستان میں سب سے کم چوری پیسکو میں ہے،  جمہوری مدت پوری ہو رہی ہے، ملازمین کے لئے تین اعزازیوں کا اعلان کیا جائے۔