سانحہ جڑانوالہ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے پاکستان علماء کونسل نے مسیحی رہنماؤں کے ساتھ 20رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے؛ حافظ طاہر محمود اشرفی

30

فیصل آباد ،19 اگست (اے پی پی):پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور انٹرنیشنل فیتھ ہارمنی کونسل کے صدر حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان علماء کونسل نے مسیحی رہنماؤں کے ساتھ ایک 20رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے جو سانحہ جڑانوالہ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مسیحیوں کے متاثرہ گھروں، عمارتوں اور گرجاگھروں کی بحالی کے کاموں کی نگرانی بھی کرے گی۔

 ہفتہ کے روز جڑانوالہ کے دورہ کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے گفتگوکرتے ہوئے طاہر اشرفی نے کہا کہ جڑانوالہ میں مسیحیوں پر حملہ دراصل پاکستانیوں پر حملہ ہے اور حملہ آوروں نے ہمیں شرمندہ کیا ہے جس پر میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسیحیوں سے معافی مانگتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں موٹروے پر سفر میں تھا جب میں کھیتوں میں رات گزارتی مسیحی بیٹیوں کی تصاویر دیکھی تو میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے ، انہوں نے کہا کہ آج  بشپ اور مسلم قیادت یہاں موجود ہیں جوجڑانوالہ واقعہ کے متاثرین کویہ پیغام دینے آئے ہیں کہ ہم سب دہشت اور وحشت کے خلاف ایک ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں ان پاکستانیوں کا، ان مسلمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس مشکل وقت میں اپنے مسیحی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہوکر ان کے گھروں کو بچانے کی کوشش کی۔

پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور انٹرنیشنل فیتھ ہارمنی کونسل کے صدر حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ہم نے طے کیا ہے کہ ایک بیس رکنی کمیٹی  تشکیل دی جائے جس میں پادری، بشپ، مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام شامل ہوں گے جو بشپ آزاد مارشل اور میری سربراہی میں روزانہ کی بنیاد پر کام کرکے اس سارے معاملے کو دیکھے گی۔انہوں نے کہا کہ قانونی طور پر چھان بین کرنے کیلئے اس کمیٹی میں وکلاء کو بھی شامل کیا جائے گا اور ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ ہر دوتین ماہ کے بعد ایسا کیوں ہوجاتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے کہ دو افراد کے فعل پر پورا شہر جلا دیا جاتا ہے۔

 طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ہمیں دکھ ہے کہ اگر جوزف کالونی اور دیگر واقعات کے مجرموں کو سزا دے دی گئی ہوتی تو آج یہ سانحہ نہ ہوتا۔انہوں نے کہا کہ شانتی نگراور سیالکوٹ کے واقعات ہمارے سامنے ہیں۔ جب وحشت و دہشت جنم لیتی ہے تو وہ یہ نہیں دیکھتی کہ یہ مسلم ہے یا مسیحی۔انہوں نے کہا کہ آج ہم نے کچھ علاقوں کا دورہ کیا ہے وہاں بجلی نہیں تھی۔ اس کے بہت سارے اسباب ہیں۔ مگرمیں وزیر اعظم کا شکر گزار ہوں کہ ان کو میں نے پیغام بھیجا اور ان کا ابھی ابھی میسج آیا ہے کہ بجلی سمیت تمام ضروریات و سہولیات جلد از جلدبحال کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ بحالی کے اس سارے معاملے کی نگرانی ہم خود کریں گے اور جہاں بھی کوئی کمی ہوگی وہ فورا ًپوری کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں سو بار جڑانوالہ آنا پڑا ہم آئیں گے۔ ہم بشپ صاحبان اور مسلمان علماء کے ساتھ رابطہ رکھیں گے اور کوشش کریں گے کہ تمام کو امن ملے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کے بیان اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دورہ سے مجھے امید پیدا ہوئی ہے۔ ہمارے مستقبل کے چیف جسٹس نے یہاں کا دورہ کر کے ثابت کردیا ہے کہ انصاف گھر کی دہلیز پر ملے گا۔انہوں نے کہا کہ جس طرح جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپیل کی ہے، میں بھی ملک کے تاجروں سے اور بالخصوص مسلمان تاجروں اور عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے مسیحی بھائیوں کی مدد کیلئے پہنچیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہوں اور دنیا کو پیغام دیا جائے کہ ہم ایک ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں طاہر اشرفی نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ جڑانوالہ واقعہ کی حکومت اور پولیس جو تحقیق کررہی ہے وہ اگلے چوبیس گھنٹے میں قوم کے سامنے آنی چاہیے۔جو واقعی ہی قصور وار ہے اس کو سزا ہو اور سزا ہوتی نظر بھی آئے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ مسیحی متاثرین کو ایک ایک چیز مہیا کرے گی۔ اگر حکومت نہیں دے گی تو ہم مہیا کریں گے۔انہوں نے اس موقع پر سندس نامی بچی کو جہیز دینے کا بھی اعلان کیا کیونکہ اس کی طرف سے یہ شکایت کی گئی تھی کہ سانحہ جڑانوالہ کے دوران اس کا جہیز کا سامان لٹ گیا تھا۔