میر پور خاص ؛سندھ کمیشن آن دی اسٹیٹس آف وومین ،حکومت سندھ کے زیر اہتمام مشترکہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

53

میر پور خاص،23 اگست (اے پی پی): ڈی آئی جی میرپورخاص رینج ذوالفقار علی مہر کی ہدایات کی روشنی میں پولیس کمپلیکس میرپورخاص میں “سندھ کمیشن آن دی اسٹیٹس آف وومین” اور حکومت سندھ کی جانب سے ایک مشترکہ تربیتی روکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔

اجلاس میں ضلع میرپورخاص اور عمرکوٹ میں جینڈر بیس وائلنس، خواتین پر تشدد کے جرائم اور روزمرہ پیش آنے والے اہم مسائل پر، شرکاءکو آگاہی دی گئی، ورکشاپ میں جینڈربیس وائلنس سے متعلق قوانین اور اداروں کی سروسز کے حوالے سے بتایا گیا۔

 چیئرمین نزہت شیرین نے اجلاس میں خطاب کرتے ہوتے ہوئے کہا کہ خواتین کو گھروں میں تشدد، طلاق، شادی، ووٹ اور کام کرنے کے آزادی ہونی چاہیئے ، خواتین سے زیادتی نہ صرف ذہنی دباو کا باعث بنتی ہے بلکہ خواتین کی موت کا سبب بھی بنتی ہے۔خواتین پر تشدد کے حوالے سے مختلف قوانین موجود ہیں جن سے متعلق آگاہی ہر عام فرد کے لئے انتہائی ضروری ہے ان قوانین پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دین اسلام بھی خواتین کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے،جینڈر بیسڈ وائلنس کے حوالے سے بنائی گئی عدالتیں بھی موثر طریقے سے کام کر رہی ہیں۔

اس موقع پر ڈی آئی جی میرپورخاص کا کہنا تھا کہ، خواتین پر تشدد انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بدترین مثال ہے ، ہمارے معاشرے میں اسکی مختلف اقسام دیکھنے میں ملتی ہیں، گھریلو تشدد سے لے کر دفاتر میں ہراساں کرنے، غیرت کے نام قتل اور ظلم و زیادتی کے تمام معاملات جینڈ ربیسڈ وائیلنس میں آتے ہیں۔ جینڈر بیسڈ وائیلنس جرائم مختصر اور طویل دورانیے کے ہوتے ہیں جو ایسے جرائم کا شکار افراد کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ اب ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے معاشرے کے ہر فرد کو بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

اجلاس میں ڈی آئی جی میرپورخاص ذوالفقار علی مہر ، چیئرمین سندھ کمیشن اسٹیٹس آن دی وومن گورنمنٹ آف سندھ نزہت شیرین ، ایس ایس پی میرپورخاص کیپٹن (ر) محمد اسد چوہدری ، ڈی ایس پی ایڈمن رینج آفس ، انچارج وومن اینڈ چائلڈ پروٹکشن سیل و دیگر پولیس افسران سمیت سول سرجن میرپورخاص شیرو موتی ، ڈپٹی ڈائیریکٹر وومن ڈویلپمنٹ عبدالوہاب عباسی ، سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے ذمہداران ، وکلا برادی، صحافیوں اور دیگر افراد نے شرکت کی ۔