سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت چین میں منعقد کی گئی آموں کی نمائش کے حوالے سے خصوصی کمیٹی کا اجلاس

13

اسلام آباد،8ستمبر  (اے پی پی):چین کے شہر اورمچی میں 17 اگست سے 21 اگست کو ہونے والی آموں کی نمائش کے حوالے سے ایوان بالاء کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی کمیٹی کا اجلاس کنوینئر کمیٹی سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

اس موقع پر کنوینئر کمیٹی سینیٹر رانا محمود الحسن نے کہا کہ پاکستان ان چند خوش قسمت ممالک میں سے ہے جہاں ہر طرح کا موسم اور بہترین معیار کا پھل دستیاب ہے، پاکستانی آم کی دنیا بھر میں بہت طلب ہے اور جس معیار کا آم پاکستان میں ملتا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ،اگر موثر حکمت عملی اختیار کی جائے اور ویلیو ایڈڈ کے ذریعے ہم اربوں روپے کا زرمبادلہ حاصل کر سکتے ہیں،پاکستانی آم کو پاؤڈر بنا کر اور چھوٹے حصوں میں خشک کر کے ویلیو ایڈڈ کیا جائے تو خاصے مہنگے داموں فروخت کیا جا سکتا ہے۔

کنوینئر کمیٹی نے وزرات کامرس، ٹی ڈیپ، ایوان بالاء، وزارت خارنہ امور اور دیگر متعلقہ اداروں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تعاون سے چین کے شہر اورمچی میں پاکستانی آموں کی نمائش انتہائی کامیاب رہی۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں کے تعاون سے آئندہ برس بھی نمائش میں حصہ لیا جائے گا جس میں ہزاروں لوگوں کو لے کر جائیں گے تاکہ پاکستانی ایکسپورٹ موثر فروغ دیا جا سکے۔ پاکستان کار روشن مستقبل چین کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ دونوں ممالک تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دے کر نمایاں بہتری لا سکتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ چین میں منعقدہ نمائش کے مثبت نتائج سامنے ہیں، میں چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے بھی بھر پور تعاون کیا جس کی وجہ سے یہ دورہ انتہائی کامیاب رہا۔

ایڈیشنل سیکرٹری وزارت کامرس نے کمیٹی کو بتایا کہ کرونا وبا کی وجہ سے بارڈر بند تھا اپریل میں کھل گیاہے، چین کے ساتھ بذریعہ سٹرک ایمپورٹ، ایکسپورٹ شروع ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین، قازکستان، کرغستان اور پاکستان کے مابین ایک معاہدہ بھی ہوا ہے اور بذریعہ سٹرک امپورٹ، ایکسپورٹ ہو سکتی ہیں، ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے، پاکستانی پھلوں کو جوسز اور پلپ کی شکل میں بھی ایکسپورٹ کیا جاسکتا ہے،اس سے بھی نمایاں بہتری آسکتی ہے، ہمیں بھی بارڈر کھلنے کا فائدہ اٹھانا چاہئے، ان ممالک کے ساتھ مچھلی، سمندری خوراک، لال مرچ، آم، چیری اور دیگر اشیاء کی ایکسپورٹ کو فروغ دینا چاہئے۔

کنوینئر کمیٹی نے بعد ازاں وزارت کامرس اور ٹی ڈیپ حکام کو چین میں شاندار نمائش منعقد کرانے پر اعزازی شیلڈ بھی دیں۔خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر دنیش کمار کے علاوہ وزارت کامرس اور ٹی ڈیپ حکام نے شرکت کی۔