چترال،03اکتوبر(اے پی پی):بین الاقوامی اہمیت کے حامل چترال گول نیشنل پارک میں محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے مون سون شجرکاری مہم کے دوران دیار کے تین ہزار پودے لگائے۔
شجرکاری مہم کی نگرانی کرنے کیلئے خصوصی طور پر محکمہ جنگلات ملاکنڈ کے کنزرویٹر شوکت فیاض آئے ہوئے تھے جبکہ شجرکاری مہم کے دوران محکمہ جنگلات کے نگہبان اور الخدمت فاونڈیشن کے رضاکار نے بھی حصہ لیا۔
شجرکاری مہم میں ڈویژنل فارسٹ آفیسر آصف علی شاہ، سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر چترال ڈویژن یوسف فرہاد، سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر دروش عمیر نواز، ڈویژنل فارسٹ آفیسر جنگلی حیات چترال گول نیشنل پارک محمد الطاف علی شاہ، بلاک آفسر عزیز ولی اور دیگر اہکاروں نے بھِی پودے لگانے کی نگرانی کرتے ہوئے نگہبانوں کو پودے صحیح طریقے سے لگانے کی تربیت دی۔
اس مہم میں دیار کی تین ہزار پودے لگائے گئے، امید ہے کہ جب یہ پودے بڑے ہوکر تناور درخت بن جائیں گے تو اس سے یہاں ایک گھنا جنگل دیکھنے کو ملے گااور یہاں کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا جبکہ سب سے بڑا فائدہ جنگلی حیات کو ہوگا کیونکہ جتنا گھنا جنگل ہوگا، جنگلی حیات اتنا ہی اس میں خوش رہیں گے۔
واضح رہے کہ چترال گول نیشنل پارک کو بین الاقوامی سطح پر اہمیت حاصل ہے، یہاں پاکستان کے قومی جانور کشمیر مارخور بڑی تعداد میں رہتے ہیں اس کے علاوہ قومی درخت دیار، قومی پھول چنبیلی اور قومی پرندہ چکور بھِی چترال گول نیشنل پارک میں موجود ہے۔
ڈویژنل فارسٹ آفیسر وائلڈ لائف چترال گول نیشنل پارک محمد الطاف علی شاہ کے مطابق اس پارک کا کور زون سات ہزار سات سو پچاس ہیکٹر علاقے پر محیط ہے جبکہ بفر زون جو بعد میں اس کے ساتھ شامل کیا گیا ہے یہ دونوں ملاکر پچاس ہزار ہیکٹر رقبہ بنتا ہے۔ان کے مطابق اس پارک میں مارخور کے علاوہ ہیما لاین لنکز، برفانی چیتا، بھیڑیا، گیدڑ، مارمیٹ وغیرہ جنگلی حیات کا یہ مسکن ہے۔ ان کے مطابق یہاں دو ہزار دو سو اٹھتر مارخور رہتے ہیں۔
اے پی پی سے گفتگو میں کنزرویٹر فارسٹ شوکت فیاض نے کہا کہ درخت ہمارے ساتھ مہد سے لیکر لحد تک کام آتا ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چترال کے جنگلات پر بہت بوجھ ہے، خاص کر موسم سرما میں زیادہ تر لوگ شاہ بلوط کی لکڑی کو جلاتے ہیں تاکہ خود کو سردی سے بچا سکیں جس کی وجہ سے جنگلات کی شرح بہت کم ہوتی جارہی ہے، اس کا واحد حل یہ ہے کہ چترال کے لوگوں کو سستی نرح پر بجلی یا گیس فراہم کی جائے تاکہ وہ کھانا پکانے اور خود کو گرم رکھنے کیلئے لکڑی کے بجائے بجلی یا گیس کا ہیٹر استعمال کریں۔
شجرکاری مہم کے موقع پر محکمہ جنگلات کے افسران نے قوم پر زور دیا کہ وہ بھی ان کے ساتھ اس کارخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ہر پاکستانی کم از کم ایک پودا ضرور لگائے تاکہ ملک میں جنگلات کی کمی پر قابو پایا جاسکے۔
ماہرین کے مطابق جنگلات کی شرح جتنی زیادہ ہوگی اتنا ہی وہ موسمیاتی تبدیلی پر مثبت اثرات ڈالیں گے اور جنگلات ہمیں قدرتی آفات میں زیادہ نقصان سے بھِی بچاتے ہیں۔











