حکومت قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے؛ مشعال ملک

31

لاہور ،10اکتوبر (اے پی پی): وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے انسانی حقوق مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ حکومت قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے، قیدیوں کو رہائی کے بعد عزت دار شہری بنا کر مثبت معاشرتی تبدیلی لائی جا سکتی ہے ،دین اسلام انسانیت کی فلاح کا مذہب ہے، اسلام میں قیدیوں کے بھی حقوق ہیں، بھارت نے کشمیر کو کشمیریوں کے لیے جیل بنا دیا ہے، جنیوا کنونشن کے تحت قیدیوں کو حقوقِ فراہم کرنے اور ان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ایک ہفتے کے اندر پروگرام لا رہے ہیں۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو کوٹ لکھپت جیل کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ قیدیوں کو درپیش مسائل کو مجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے ،حکومت  قیدیوں کی فلاح و بہبود خاص کر قیدیوں کے چھوٹے بچوں کے لیے لاجا کے ساتھ ایک پروگرام تشکیل دے رہی ہے ، خواتین قیدیوں کے پیدا ہونے والے ان بچوں نے تو جرم نہیں کیا، اس لیے ہماری کوشش ہے کہ ان بچوں کو معاشرے میں مثبت بنایا جا سکے، اس سلسلے میں اصلاحات لا رہے ہیں-

 معاون خصوصی نے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے تحت جیلوں کے مسائل دیکھوں گی،جیلوں میں قید لوگ میرے دل کے قریب ہیں،یاسین صاحب بھی اس وقت جیل میں ہیں،میں نے مقبوضہ کشمیر کی جیلیں بھی دیکھی ہیں، میرے شوہر کئی سالوں سے ڈیتھ سیل میں قید ہیں ،یاسین صاحب کو وکیل، فون، کسی چیز کی اجازت نہیں،صرف فیصلے سنانے کے وقت انکو پیش کیا جاتا ہے، ہمیں ان سے ملاقات کی بھی  اجازت نہیں ہوتی ہے ، بھارت نے پورے کشمیر کو ایک جیل بنا دیا،سیاسی قیدیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں لیکن بھارتی حکومت کو ان حقوق کا کوئی خیال نہیں ہے ۔

معاون خصوصی نے  کہا کہ جب تک میں نگران حکومت میں ہوں اور مجھے یہ زمہ داری سونپی گئی ہے ،اس مختصر سے عرصے میں جیلوں میں مرد خواتین کے حقوق سمیت قیدیوں کے بچوں کے حالات میں خود دیکھوں گی، کیوں کہ ہم لوگ جیلوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے سب سے زیادہ متاثرہ ہیں اور میں سمجھتی ہوں کہ میں اس کو بہتر انداز سے دیکھ سکوں گی،جیلوں میں اصلاحات کے لیے انسانی حقوق کے لوگ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

مشعال ملک نے کہا کہ مجھے خوشی ہوئی یہ دیکھ کر کہ قیدیوں کو معیاری کھانے کی فراہمی کے لئے بھی خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں، اس  حوالے سے جہاں ایک جانب کھانے کے معیار کے کو بہتر بنانے کے لئے کوکنگ آئل ، کھی ، آٹے ، دالیں ، گوشت اور چکن کے معیار کو بہتر بنایا گیا ہے وہیں کھانے کے مینیو میں بہتری لائی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ قیدیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کے لیے ہم سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر اصلاحات لا رہے ہیں ، اس کے لیے مخیر حضرات کو آگے آنا ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت  کی جانب سے جیل میں  کھانے کی سہولیات کے ساتھ معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ، قیدیوں کا روازنہ کی بنیاد پر چیک اپ کیا جا تا ہے ،جیل میں صفائی ستھرائی کے اقدامات پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے اس کے ساتھ ساتھ قیدیوں کی تعلیم و تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جس کے لیے ہم جلد اقدامات کر رہے ہیں اور پروگرام لا رہے ہیں۔

معاون خصوصی مشعال ملک  نے کہا کہ تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند قیدیوں کو روایتی اور فنی تعلیم  کی سہولتوں کو آسان بنایا جائے گا تاکہ وہ معاشرے میں اچھے شہری بن سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ  تعلیمی سہولیات کیساتھ ساتھ جیلوں میں قیدیوں کو مختلف ہنر بھی سکھائے جا رہے ہیں تاکہ وہ رہائی پانے کے بعد با عزت روزگار کما سکیں، اس کی ساتھ ساتھ جیلوں میں مخیر حضرات کے تعاون سے مختلف فلاحی کام بھی شروع کر یں گے۔

ایک سوال کے جواب میں معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان کی جیلوں میں سب سے  بڑا مسئلہ اضافی بوجھ ہے، دور دراز سے قیدی لا کر قید میں رکھے جاتے ہیں، ان کو معیاری کھانے، صحت، وکیشنل اسکلز سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے پروپزل تیار کررہے ہیں تاکہ ان کے مسائل کو کم کیا جا سکے۔

 ایک اور سوال کے جواب میں مشعال ملک نے کہا فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں سب سے پرانا حل طلب مسئلہ ہے اس کے حل کے بغیر دنیا میں امن کا قیام ایک خواب ہے۔ انہوں نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین تنازعہ کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں تاکہ دنیا میں امن قائم ہو سکے۔

 مشعال ملک نے کہا وہ دن دور نہیں جب فلسطین اور کشمیر آزاد ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے جتنے ظلم ڈھائے حالیہ جنگ اس کا فطری ردعمل ہے،دنیا کو امن کی طرف لے جانا ہے تو فلسطین اور کشمیر کو آزادی دینا ہوگی ،تاکہ وہ عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔