کوئٹہ۔ 12 اکتوبر (اے پی پی): نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کو ہدایت کی ہے کہ زرعی شعبے کے منظور شدہ قانونی ٹیوب ویلوں کی بجلی جمعہ تک بحال کر دی جائے تاکہ عین سیزن میں زمینداروں کو برقی تعطل کے باعث کسں بھی قسم کے زرعی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے نگران وزیر اعلیٰ نے سیکرٹری محکمہ انرجی اور کمشنر کوئٹہ کی سربراہی میں ایک سب کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے کیسکو اور زمینداروں کے مابین بقایاجات کی ادائیگی، میٹرز کی تنصیب اور غیر قانونی ٹیوب ویلوں کے خلاف کارروائی کے لیے قابل عمل تجاویز مرتب کرنے کی ہدایت بھی کی،نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی کی زیر صدارت کیسکو، محکمہ خزانہ اور انتظامی افسران کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبدالکریم جمالی، سیکرٹری خزانہ زاہد سلیم، کمشنر کوئٹہ ڈویژن حمزہ شفقات و دیگر حکام نے شرکت کی اجلاس میں کیسکو کے سربراہ عبدالکریم جمالی نے بتایا کہ بلوچستان میں زرعی صارفین کے زمہ کیسکو کے 437 بلین جبکہ نجی صارفین کے زمہ 32 بلین روپے واجب الادا ہیں جس کی وجہ سے کیسکو کو مالی خسارے کا سامنا ہے بلوچستان کے بی ایریا میں واجبات کی ادائیگی اور غیر قانونی کنکشن منقطع کرنے کے لئے آپریشن کا آغاز کیا جاررہا ہے، سیکرٹری خزانہ بلوچستان زاہد سلیم نے اجلاس کو بتایا کہ گزشتہ دو مالی سالوں کے دوران کیسکو کو زرعی سبسڈی کے واجبات کی ادائیگی کے لئے آٹھ ارب روپے کی ادائیگی کی گئی ہے مشکل مالی حالات کے باوجود زمینداروں کو نقصان سے بچانے کے لئے زرعی سبسڈی کے واجبات کی مد میں حکومت بلوچستان کیسکو کو ایک ارب روپے کی ادائیگی کے لئے تیار ہے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے زرعی شعبے کی بجلی جمعہ تک بحال کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئےنگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عین سیزن میں بجلی کی بندش زرعی شعبے کی تباہی کا باعث ہوگی اور اس سے بلوچستان کے زمیندار معاشی بد حالی کا شکار ہوسکتے ہیں اس لیے کیسکو کل تک بجلی کی بحالی یقینی بنائے تاہم اس کے ساتھ ساتھ واجبات کی ادائیگی اور بجلی چوری کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں اور غیر قانونی ٹیوب ویلوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے لیکن جو منظور شدہ قانونی ٹیوب ویلوں ہیں انہیں کم از کم آٹھ گھنٹے بجلی فراہم کی جائے تاکہ طویل برقی لوڈ شیڈنگ کے باعث کاشتہ باغات اور فصلیں تباہ نہ ہوں اور کیسکو بھی زمینداروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے۔











