پشاور، 19اکتوبر(اے پی پی): خیبرپختونخوا کے نگران وزیراعلی محمد اعظم خان نے کہا ہے کہ نگران صوبائی حکومت نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت غیر ضروری اخراجات کو کم سے کم کردیا ہے، ہم دستیاب مالی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنا رہے ہیں، نگران صوبائی حکومت نے ابھی تک بینکوں سے کوئی اور ڈرافٹ نہیں لیا۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ ادوار میں بہت ذیادہ بھرتیوں کی وجہ سے صوبے اور یونیورسٹیوں میں تنخواہوں اور پنشن کا بجٹ بہت ذیادہ بڑھ گیا ہے، نگران صوبائی حکومت سخت مالی نظم و ضبط پر عمل پیرا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے تحت 25 ویں نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء کے دورہ پشاور کے موقع پر ان سے ملاقات کے دوران کیا۔
ورکشاپ کے شرکاء کو صوبے کی سکیورٹی صورتحال، مالی و انتظامی امور اور ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی، بریفنگ میں اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ صوبے میں سمگلنگ، بھتہ خوری اور حوالہ ہنڈی سمیت تمام غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، اس سلسلے میں سول انتظامیہ، سکیورٹی فورسز، انٹیلیجنس اداروں اور وفاقی و صوبائی محکموں کے درمیان کوآرڈینیشن کا ایک موثر نظام قائم کیا گیا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ بھتہ خوری اور دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے سی ٹی ڈی کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے، صوبے میں تمام غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف منظم اور مربوط انداز میں کاروائیاں کی جا رہی ہیں، صوبے میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی پروفائلنگ پر کام جاری ہے، اسکے علاوہ دہشت گردی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف قانون نافد کرنے والے اداروں کو بڑی کامیابیاں ملی ہیں، نئے ضم اضلاع میں امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا کا سالانہ ترقیاتی پروگرام 1505 منصوبوں پر مشتمل ہے، صوبے کے ترقیاتی بجٹ کا حجم 1794 ارب روپے ہے، ضم شدہ اضلاع کا سالانہ ترقیاتی پروگرام 686 ترقیاتی منصوبوں پر مشتمل ہے، ان منصوبوں کی لاگت 897 ارب روپے ہے، خیبر پختونخوا کی آمدن کا 94 فیصد دارومدار وفاقی محصولات پر ہے، سابقہ قبائلی اضلاع کے انضمام سے صوبے کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس اضافہ کے تناسب سے این ایف سی میں صوبے کے شئیر میں اضافہ نہیں ہوا، بلکہ انضمام کے بعد این ایف سی میں صوبے کا شیئر 19.64فیصد بنتا ہے، لیکن اس وقت صوبے کو این ایف سی کا صرف 14.62 فیصد حصہ مل رہا ہے۔
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ صوبائی حکومت پن بجلی، زراعت، معدنیات اور سیاحت کے شعبوں کو ترقی دیکر اپنی آمدن کو بڑھانے کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے، صحت اور تعلیم کے شعبے صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سر فہرست ہیں۔
وزیراعلی محمد اعظم خان نے اس موقع پر کہا کہ خطے میں گزشتہ چار دہائیوں سے جاری بد امنی سے خیبر پختونخوا خصوصاً قبائلی اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، امن و امان کی مخدوش صورتحال نے یہاں کی معیشت پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں،
صوبے کو اب بھی امن و امان کے مسائل کا سامنا ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قبائلی اضلاع بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
وزیر اعلی نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے لوگوں کی بحالی کے لئے حکومت کی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے، قبائلی اضلاع کے انضمام کے وقت وفاق کی طرف سے کئے گئے وعدے پورے نہیں ہو رہے،
این ایف سی ، پن بجلی کے خالص منافع اور تیل و گیس رائلٹی کی مد میں صوبے کو پورے فنڈز نہیں مل رہے، جس کی وجہ سے صوبے کو سخت مالی مسائل کا سامنا ہے۔











