کراچی،27 اکتوبر( اے پی پی ): کراچی کے علا قے منگو پیر میں واقع ایک ہی احاطے میں قائم مسجد ، مندر اور گر جا گھرہیں جہاں عبادات کرنے والے اپنی اپنی عبا دتگاہوں میں امن و سکون سے عبادت کرتے ہیں۔
دنیا میں کم و بیش 4 ہزار مذاہب اور اُنکے ما نے والے رہتے ہیں ، جن میں مسلمان، عیسائی، ہندو، بدھ مت اور یہودی شامل ہیں ،بنیادی طور پر مذاہب امن اور بھائی چارے کا درس دیتے ہیں لیکن اگر انسان اسے فراموش کر جائے تو اسکا نتیجہ تباہی اور فساد کی صورت میں نکلتا ہے،کراچی کے علاقے منگو پیر میں قائم تقریباً127 سال پرانی مسجد ، مندر اور گرجا گھر موجود ہیں۔
یہاں دلچسپ ، خوبصورت اور قابل ِ غور بات یہ ہے کہ 100 برسوں سے زائد کا یہ عرصہ یہاں کے علا قہ مکینوں نے محبت ، بھائی چارے اور با ہمی روابط کو احسن طریقے نے نبھا تے ہو ئے گزارا۔جامع مسجد کے ایم سی کے میناروں سے پنجوقتہ اذان کی آوازیں ، نماز ادا کرتے ہوئے علاقہ مکین اور نو نہال قرآنی تعلیم میں مصروف نظر آتے ہیں۔
اس حوالے سے علاقہ مکین بشیر احمدنے کہا کہ یہ مسجد میری پیدائش سے پہلے کی ہے اور جب سے ہم نے ہوش سنبھالاہے کبھی ہمارے درمیان لڑائی، جھگڑے نہیں ہو ئے اور لڑائی اللہ کو بھی نہیں پسند۔
دوسری طرف نظر ڈالیں تو 1896ء سے قائم مہا گیشور مہا دیو مندرجہاں ہندور برادری اپنی عبادات اور مذہبی رسومات ادا کرتی ہے اس سلسلے میں مندر مہا گیشور مہا دیو کے صدر با بو لال کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی عبا دات کے لئے کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کر نا پڑتا،اُنکا مزید کہنا تھا کہ ہما رے ہاں مذہبی فسادات کبھی نہیں ہو ئے اور سندھ پو لیس ، رینجرز ہمارے ساتھ بھر پور تعاون کر تے ہیں۔
اسی احاطے میں قائم بیپٹسٹ چر چ جو کے 1896ءمیں ہی تعمیر کیا گیا تھا گو کہ اس کی مرمت اور نئی شکل 1960ءمیں دی گئی تھی ، بیپٹسٹ چرچ کی دیکھ بھال پر معمور پر ویز دیپا جو کہ 1984 ءسے اس چرچ کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں کا کہنا تھا کہ ہم تینوں مذاہب کے افراد میں کبھی کو لڑائی نہیں ہوئی اورنا ہی ہم میں کبھی جھگڑے ہوئے ۔
قیام ِ پاکستان سے قبل 11 اگست 1947 ءکی تقریر میں بابا ئے قوم قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ نے اقلیتوں کے حقوق و ان کی بہتری کے بارے میں فرمایا تھا ۔











