اسلام آباد،2نومبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور برونائی دارالسلام کے درمیان بہترین دوطرفہ تعلقات ہیں جن کی جڑیں مشترکہ مذہبی اقدار اور باہمی تعاون پر قائم ہیں۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے برونائی دارالسلام کے ہائی کمشنر پی جی کمال باشاہ پی جی احمد سے گفتگوکرتے ہوئے کیا جنہوں نے جمعرا ت کو یہاں ان سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور سمیت خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں برونائی دارالسلام کے ساتھ تجارت، کاروبار، سرمایہ کاری اور اقتصادی شعبوں سمیت دو طرفہ روابط کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
چیئرمین سینیٹ نے بطور ہائی کمشنر تعیناتی پر انہیں مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے آپ کی تعیناتی سے پاکستان اور برونائی دارسلام کے تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور امید ہے کہ برونائی دارالسلام کے سرمایہ کار پاکستان میں توانائی، زراعت، تعلیم اوردیگر شعبوں میں سرمایہ کاری پر غور کریں گے۔
صادق سنجرانی نے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان اسلامو فوبیا، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اندر تعاون اور عالمی امن سے متعلق مسائل سمیت متعدد امور پر گہرے اعتماد کا رشتہ موجود ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے قلیل آبی وسائل کے موثر استعمال اور جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے زراعت کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔دونوں ممالک کے تاجر و سرمایہ کار موجود مواقعوں سے مستفید ہوں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اقتصاد ی و معاشی شعبوں میں موثر حکمت عملی اختیار کر کے بہتری لائی جا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ مقبوضہ جموں و کشمیر و فلسطین کی موجودہ تشویشناک صورتحال اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں پر بھی تبادلہ خیال کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے حل کیلئے عالمی طاقتوں کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ درپیش مسائل کا حل اقوام متحدہ کیلئے ایک چیلنج اور امتحان ہے۔مسلم اُمہ کو مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر و فلسطین میں جاری ظلم و بربریت کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
برونائی دارسلام کے سفیر نے کہا کہ برونائی دارسلام، پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات بڑھانے کا خواہاں ہے جبکہ خطے میں امن کیلئے پاکستان کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔











