کراچی؛نگراں وزیر صحت ڈاکٹر سعد خالد نیاز کا ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے امتحانی مرکز کا دورہ، انتظامات کا جائزہ لیا

67

 

 

کراچی،19نومبر  (اے پی پی):نگراں وزیر صحت، سماجی بہبود، پبک ہیلتھ انجینئرنگ و دیہی ترقی سندھ ڈاکٹر سعد خالد نیاز نے ایکسپو سینٹر کراچی میں منعقدہ میڈیکل کالجز و یونیورسٹیز میں داخلوں کے خواہشمند طلباء کے امتحانی مرکز کا دورہ کیا اور   امتحانی مرکز میں انتظامات کا جائزہ لیا اور طلباء کے والدین سے بھی ملاقات کی۔

اس موقع پر نگراں وزیر صحت سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے انتظامیہ نے بتایا کہ ایم ڈی کیٹ امتحانی مرکز میں طلبا ء کو تمام ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں، امتحانی مرکز میں پندرہ ہزار سے زائد طلبہ و طالبات حصہ لے رہے ہیں جبکہ طلباء کے والدین کے لیے بیٹھنے کا علیحدہ انتظام کیا گیا ہے۔ نگراں وزیر صحت سندھ نے ایم ڈی کیٹ امتحان کے بہترین انتظامات پر ڈائو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سعید قریشی اور انکی ٹیم کو مبارکباد پیش کی جبکہ بہترین انتظامات و سہولیات پر والدین نے بھی نگراں وزیر صحت سندھ ڈاکٹر سعد خالد نیاز سے اظہار تشکر کیا۔

بعد ازاں ایکسپو سینٹر کے باہر میڈیا نمائندگان سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر سعد خالد نیاز نے کہا کہ پیپر لیک پر ہم نے دوبارہ ٹیسٹ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا ،دوبارہ امتحان کا فیصلہ میرٹ والے امیدواروں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 41ہزار سے زائد بچوں کا بیک وقت امتحان لینا ایک مشکل ٹاسک ہے، ایسی صورتحال میں یقینا ہر شخص کو مطمئن کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قلیل بجٹ میں کراچی میں 15ہزار سے زائد بچوں کا امتحان بھی ایک مشکل مرحلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کوشش کی ہے کہ دوبارہ پرچہ آوٹ نہ ہو، رات ڈھائی بجے تک تمام انتظامیہ رابطے میں تھی تاکہ پرچہ آوٹ نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ میرا ذاتی خیال ہے کہ امتحانی مراکز کی تعداد بڑھنے اور انتظامیہ کی تعداد بڑھانے سے پرچہ آوٹ کے امکانات میں اضافہ ہوتا ہے، 41ہزار بچوں کے داخلے کے لیے امتحان لینا غیر منطقی ہے، تعلیمی اداروں کی تعداد بڑھانے سے فرق نہیں پڑتا، معیار کو برقرار رکھنا مقصد ہے۔

نگراں وزیر صحت سندھ نے کہا کہ پچھلے پیپر لیک کی انکوائری کمیٹی نے رپورٹ ایف آئی اے کو دی تھی، ایف آئی اے کی رپورٹ آنے تک مجرمان اور سزاں کا قبل از وقت تعین ناقابل فہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سات سال سے میڈیکل کالجز کی فیس نہیں بڑھی ہے، میڈیکل کی فیس تین ہزار سے بھی کم ہے جو بعض مونٹیسری کی سطح کے بچوں سے بھی کم ہے، میڈیکل کالجز و جامعات کے سربراہان کے اجلاس میں فیسوں میں اضافے کا مطالبہ سامنے آیا تھا جس سے کسی حد تک متفق ہوں، یہ لازمی نہیں کہ فیسوں میں اضافہ ہو، سمری کابینہ کو بھیجیں گے جو فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ میری رائے میں اس مہنگائی کو مد نظر رکھتے ہوئے اضافے کا فیصلہ جائز ہے۔