عام انتخابات2024؛ لاہور میں قومی اسمبلی کے 4 حلقوں میں کانٹے دار مقابلوں کا امکان

17

 

 

لاہور،7 فروری ( اے پی پی ): صوبائی دارلحکومت لاہور ہمیشہ سے ہی پنجاب کی سیاست کا مرکزو محور رہا ہے اور اس بار عام انتخابات 2024 میں بھی سیاسی گہماگہمی اپنے عروج پر ہے ۔  پنجاب  کے دیگر حلقوں کی طرح لاہور میں بھی عام انتخابات کا پنڈال سج چکا ہے اور نامور سیاسی شخصیات اپنے ووٹ بینک سے اپنی مقبولیت دکھانے کے لیے تیار ہیں ۔

عام انتخابات 2024 میں لاہور سے قومی اسمبلی کی 14 نشستوں پر مختلف سیاسی مخالفین مدمقابل ہیں۔صوبائی دارلحکومت لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقوں میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 6765089ہے جبکہ کل  266 امیدوار مدمقابل ہیں ۔

عام انتخابات میں جن حلقوں میں سخت مقابلوں کی توقع کی جا رہی ہے ان میں لاہور کے حلقہ این اے 119 میں مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدر مریم نواز  کا مقابلہ آزاد امیدوار شہزاد فاروق کے ساتھ اس حلقے میں سخت مقابلے کی توقع کی جارہی ہے جہاں رجسٹرڈووٹرز کی تعداد 492454ہے۔

لاہور کے حلقہ این اے 122 میں مسلم لیگ (ن)کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا مقابلہ آزاد امیداور سردار لطیف کھوسہ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ 2018میں ضمنی انتخابات میں خواجہ سعد رفیق نے ہمایوں اختر خان کو شکست دی تھی۔اس حلقے میں 565615ووٹر ز اپنا حق رائے دہی کے ذریعے اپناپسندیدہ نمائندہ منتخب کریں گے۔

اسی طرح حلقہ این اے 127 میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا مقابلہ مسلم لیگ (ن)کے رہنما عطا تارڑ سے ہے جبکہ اسی حلقے میں ظہیر عباس کھوکھر بطور آزاد امیدوارالیکشن لڑ رہے ہیں۔اس حلقے میں 519150 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

حلقہ این اے 130 میں مسلم لیگ (ن)کے قائد محمد نواز شریف اور آزاد امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد میں کانٹے دار مقابلے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔سال2013کے عام انتخابات میں بھی ڈاکٹر یاسمین راشد نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے مقابلے میں 54ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ نواز شریف اس حلقے سے 91ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے تھے۔اس حلقے میں ریلوے روڈ کے علاوہ ساندہ، اسلام پورہ اور دیگر علاقے شامل ہیں جہاں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 616117ہے۔