اسلام آباد۔18اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے توانائی ( پاور ڈویژن ) سردار اویس احمد خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر پاور سیکٹر ریفارمز کیلئے روڈ میپ پیش کردیا ہے، توانائی کے شعبے میں بہتری اولین ترجیح ہے جس کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، وزیر اعظم کی ہدایت پر گزشتہ دو تین ہفتوں میں مکمل جائزہ لیا گیا ہے،پاور سیکٹر سے متعلق ریفارمز کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ریفارمز سے متعلق تفصیلات آئندہ ہفتے بتائی جائیں گی۔
جمعرات کو میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر کہنا تھا کہ بجلی چوروں کیخلاف زیرو ٹالرنس کے تحت فوری ایکشن مہم شروع کردی گئی ہے ،23اپریل تک ہر ایس ڈی او، لائن سپرٹنڈنٹ اور لائن مین کارروائی نہ کرسکا تو انکے خلاف بھرپورکارروائی کی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 4 سے 5 سالوں میں سولرائزیشن کو فروغ حاصل ہوا ہے ،سولر یونٹ کی قیمت کی ریشنلائزیشن ضروری ہو گئی ہے۔
وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ ڈسکوز میں بیٹھے افسران اور ملازمین بھی شعبے کی خرابی کا باعث ہیں انہوں نے تمام ڈسکوز کے سی ای او زکو سختی سے مانیٹرنگ کرنے کےلئے ہدایات جاری کیں۔
انہوں نے کہا کہ ایس ڈی او اور لائن مین چل کر ہر فیڈر پر کنڈے چیک کریں گے،بورڈز کو مکمل اختیارات دے رہے ہیں جو اپنے فیصلوں کے ذمہ دار ہونگے، بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بیٹھے اپنے پرائے نہیں رہیں گے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آئندہ ہفتے تک نئے بورڈز سے متعلق فیصلہ کابینہ سے ہو جائے گا، ڈسکوز کی نجکاری ضروری ہے اور یہ کہیں نہیں لکھا ہوا کہ وفاقی وزیر یا وفاقی سیکرٹری ڈسکوز کو چلائیں ، نقصانات میں چلنے والی ڈسکوز کی نجکاری ہر صورت میں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آج سے ایک ماہ کے بعد ڈسکوز کے بورڈ ز اپنی کارکردگی پر جوابدہ ہونگے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں نقصانات سب سے بڑا چیلنج ہے، بجلی چوری سے سالانہ نقصان 560 ارب تک پہنچ گیا ہے۔ بجلی چوری کرنے والوں کا خمیازہ غریب عوام کو نہیں بھگتنے دیں گے اوربجلی چوری میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے ۔











