وفاقی وزیر احسن اقبال کا ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی فلیگ شپ رپورٹ “ایشیائی انفراسٹرکچر فنانس 2025: کرۂ ارض کی صحت کے لیے انفراسٹرکچر” کی تقریب رونمائی سے خطاب

22

اسلام آباد، 27 مئی (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ آج ہمیں ایسے انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے جو نہ صرف معاشی ترقی کو فروغ دے بلکہ انسانی صحت اور ماحولیاتی تحفظ کو بھی یقینی بنائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک  کی فلیگ شپ رپورٹ “ایشیائی انفراسٹرکچر فنانس 2025: کرۂ ارض کی صحت کے لیے انفراسٹرکچر” کی تقریب رونمائی سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ ایک عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے جو حکومتوں، اداروں اور منصوبہ سازوں کو انفراسٹرکچر کو صرف ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ کرہ ارض اور انسانی صحت کی حفاظت کا وسیلہ بنانے کی ترغیب دیتی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کا سامنا کر رہا ہے جن میں سیلاب، گرمی کی شدید لہریں، سموگ اور پانی کی قلت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسائل بدقسمتی نہیں بلکہ دہائیوں سے ماحولیاتی تحفظ کو نظر انداز کرنے اور غیر محفوظ انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کا نتیجہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت “اڑان پاکستان فائیو ایز” فریم ورک کے تحت ایسے اقدامات کر رہی ہے جو ماحولیاتی تحفظ، صحت کے نظام کی بہتری اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ پر مبنی ہیں۔ ان میں الیکٹرک بسوں کا استعمال، دریا کناروں کی بحالی، اور صحت مراکز کو توانائی کے لحاظ سے مؤثر بنانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی اب صرف تعمیرات، سڑکوں یا بجلی گھروں تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ یہ ہوا، پانی اور عوامی صحت کے تحفظ سے جڑی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہر منصوبے کو موسمیاتی خطرات کے پیش نظر جانچا جانا چاہیے اور فطرت سے ہم آہنگی میں منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں جاری منصوبوں میں “لیونگ انڈس” اور “ری چارج پاکستان” جیسے منصوبے شامل ہیں جو دریا سندھ کے ماحولیاتی نظام کی بحالی اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر نیشنل ایڈاپٹیشن پلان بھی تشکیل دیا جا چکا ہے جس میں پانی، زراعت، صحت اور انفراسٹرکچر میں لچک پیدا کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔

وزیر منصوبہ بندی نے پرائیویٹ سیکٹر کو اس جدوجہد میں شامل کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ ٹیکس مراعات، پبلک پرائیویٹ شراکت داری اور مستحکم ریگولیٹری فریم ورک کے ذریعے سرمایہ کاروں کو ترغیب دی جا سکتی ہے۔

انہوں نے ماحولیاتی تحقیق میں مقامی اداروں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ BIDE نے جنوبی پنجاب اور سندھ میں موسمیاتی ہجرت اور آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں پر اہم تحقیق کی ہے جو پالیسی سازی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔