بجٹ میں ریئل اسٹیٹ اور ملٹی نیشنل سیکٹر کے لیے مثبت اقدامات ہیں : محمد شفیق صباطی

9

اسلام آباد، 10 جون (اے پی پی): فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری  کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے کارپوریٹ و ملٹی نیشنل کمپنیز افیئرز کے کنوینر محمد شفیق صباطی نے بجٹ 2024-25 کو جزوی طور پر مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں کچھ اہم رعایتیں دی ہیں، تاہم کئی اہم معاملات کی تفصیل آنا باقی ہے۔

اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے شفیق صباطی نے کہا کہ ویڈ ہولڈنگ ٹیکس کی کمی اور ایف ای ڈی کے خاتمے جیسے اقدامات ڈیڈ انڈسٹری کو زندگی دینے کی طرف اچھے قدم ہیں، مگر بجٹ میں پراپرٹی گین ٹیکس سے متعلق آئی ایم ایف کی سفارشات کے تناظر میں کوئی وضاحت آنا باقی ہے۔

شفیق نے کہا کہ جب دنیا گرین انرجی کی طرف بڑھ رہی ہے اور تعمیراتی شعبہ بھی سولر پر منتقل ہو رہا ہے، تو ایسے میں سولر پر ٹیکس نہ صرف عام صارف بلکہ کاروباری طبقے کے لیے بھی مفید نہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اس مجوزہ ٹیکس کو واپس لے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں بجلی کی قیمتیں علاقائی ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں، وہاں سولر انرجی ہی واحد پائیدار حل ہے۔