پاکستان کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایران میں اسرائیلی جارحیت روکنے کا مطالبہ

24

اقوام متحدہ،14جون  (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد ہنگامی اجلاس میں مذکورہ جارحیت کو فوری طور پر روکے اور اسرائیل کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے 15 رکنی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کی ایران کے خلاف غیرقانونی اور بلاجواز جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے  کہا کہ سلامتی   کونسل اسرائیل کو وہ آزادی اور استثنیٰ نہ دے جس کے تحت وہ بین الاقوامی قوانین اور عالمی رائے عامہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتا آ رہا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے اسرائیل کی غزہ، شام، لبنان اور یمن میں کارروائیوں کو یکطرفہ عسکریت پسندی کا تسلسل قرار دیا۔سفیر   نے کہا کہ پاکستان، جو ایران کا قریبی ہمسایہ ہے، ان حملوں سے سخت تشویش میں مبتلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف یہ حملے ایسے وقت پر کیے گئے جب ایران کے جوہری مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنے کے لیے مذاکرات جاری تھے، جس سے ان حملوں کی اخلاقی مذمت اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی مزید واضح ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان حملوں سے مذاکراتی عمل پر اعتماد مجروح ہو سکتا ہے، جو مسائل کے پرامن حل کے لیے بہت ضروری ہے۔پاکستانی سفیر نے جوہری تنازعے کے پرامن حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔انہوں نے  کہا کہ ایران کے خلاف طاقت کا غیر قانونی استعمال اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال جاری سفارتی کوششوں کو ناکام بنا سکتی ہے اور خطے کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہے۔پاکستان نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، کشیدگی سے گریز کریں اور مذاکرات کو ترجیح دیں۔ سفیر نے یاد دہانی کروائی کہ آئندہ  ہفتے اقوام متحدہ کے رکن ممالک فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق دو ریاستی حل پر پیش رفت کے لیے فرانس اور سعودی عرب کی میزبانی میں اجلاس میں شرکت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات امن کی کوششوں کو سبوتاژ، خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔اجلاس میں بیشتر ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارت کاری اور تحمل ناگزیر ہیں۔