اسلام آباد، 17 جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کی صدارت میں سمندری آلودگی کنٹرول بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں بحری آلودگی روکنے کے لیے اہم اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ حکومت سمندری ماحول کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے بحری آلودگی کو معیشت اور صحت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مچھلی، سیاحت اور شپنگ صنعتیں اس سے متاثر ہو رہی ہیں جبکہ ماہی گیر برادریوں کا روزگار بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے ساحلی پانیوں میں آلودگی تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے اور گندے پانی و صنعتی فضلے کا سمندر میں داخلہ فوری روکنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاربر انفراسٹرکچر کو آلودگی کے باعث شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
اجلاس میں کچرے کو روکنے کے لیے نالوں پر جال لگانے اور دریاؤں کے اطراف باڑ نصب کرنے کی تجویز دی گئی، جبکہ منوڑہ اور بابا بھٹ جزائر میں نئی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی جلد تعمیر کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
اجلاس کے دوران انکشاف کیا گیا کہ کراچی روزانہ 472 ملین گیلن گندا پانی پیدا کرتا ہے۔ جنید انوار چوہدری نے سمندری آلودگی کے خلاف مؤثر عوامی مہم چلانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔











