لاہور، 20 جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد زراعت صوبوں کا اختیار بن چکی ہے لیکن بدقسمتی سے اس شعبے کو وہ توجہ نہیں دی گئی جس کی اشد ضرورت تھی۔ زرعی ترقی نہ ہونے کی وجہ سے ہم نہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کر سکے اور نہ ہی اعلیٰ معیار کے بیج متعارف کرا سکے۔
وفاقی وزیر نے یہ بات لاہور کے ڈیفنس روڈ پر واقع ایک جدید کپاس کے زرعی فارم کے دورے کے موقع پر کہی، جہاں زرعی ماہر انجنیئر جاوید سلیم قریشی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ احسن اقبال نے کپاس کی نئی ورائٹی کو زرعی شعبے کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیا جس سے فی ایکڑ پیداوار 40 سے 50 من تک ہو سکتی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ زرعی تحقیقاتی اداروں کا فرض تھا کہ وہ زرعی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے، لیکن عملدرآمد کا فقدان رہا۔ اُنہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اس حوالے سے ڈیٹا اکٹھا کر رہی ہے۔ وفاقی حکومت نے چاروں صوبوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی بھی قائم کر دی ہے۔
احسن اقبال نے جاوید سلیم قریشی کی 25 سالہ تحقیق اور کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ بیج موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں نہایت موزوں ہے، جو 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بیج نہ صرف کپاس کی پیداوار میں اضافہ کرے گا بلکہ زرعی خود کفالت کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر کنولا آئل، چاول اور دیگر فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے۔ کنولا آئل کی مقامی پیداوار سے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم آئندہ دس سے بیس سالوں کے لیے جامع منصوبہ بندی کریں، تاکہ پاکستان زراعت کے میدان میں خود کفیل ہو سکے۔











