پاکستان اور عالمی ادارہ صحت کے درمیان بچوں کے کینسر کی ادویات کی مفت فراہمی کا معاہدہ

24

اسلام آباد، 29 جولائی (اے پی پی): پاکستان اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے درمیان بچپن کے کینسر کی ادویات کی مفت فراہمی کے لیے معاہدہ طے پا گیا ہے۔ معاہدے پر دستخط کی تقریب نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کے تحت منعقد ہوئی، جس میں وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے نیشنل ہیضہ کنٹرول پلان  2025 ـ 2028 کا بھی افتتاح کیا۔

وفاقی وزیر صحت نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کے تحت پاکستان ہر سال 8000 بچوں کو مفت کینسر کی ادویات فراہم کرے گا۔ پاکستان گلوبل پلیٹ فارم برائے چائلڈ ہوڈ کینسر میڈیسن (GICC) میں شامل ہو چکا ہے جس کا مقصد بچپن کے کینسر سے بچاؤ کی شرح کو 30 فیصد سے بڑھا کر 60 فیصد تک لانا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت پاکستان کو تکنیکی اور عملی معاونت فراہم کرے گا جبکہ یونیسیف ادویات کی خریداری اور ترسیل کی ذمہ داری سنبھالے گا۔

انہوں نے کہا کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں بچوں کی کینسر سے اموات کی شرح 70 فیصد ہے، اس لیے یہ اقدام بچوں کی زندگیاں بچانے کی ایک بڑی کوشش ہے۔

وزیر صحت کا کہنا تھا کہ بیماریوں کی روک تھام اسپتال کے دروازے سے نہیں بلکہ باہر سے شروع ہوتی ہے، اگر ہم نے بروقت اقدام نہ کیے تو ہمارا نظام صحت بڑے بحران سے دوچار ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا خواب ایک صحت مند معاشرہ ہے جس کی بنیاد ماں اور بچے کی صحت سے شروع ہوتی ہے۔ ہر سال حمل کے دوران 11 ہزار خواتین جان کی بازی ہار جاتی ہیں جبکہ ملک کے 43 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا نظام صحت دباؤ کا شکار ہے اور ہمیں الزام تراشی کے بجائے مسائل کی جڑ کو سمجھنا ہوگا، عوام اور حکومت دونوں کو اپنی اپنی ذمہ داری نبھانا ہو گی۔

مصطفیٰ کمال نے زور دیا کہ ہیلتھ کیئر کا اصل مقصد مریض کو بیمار ہونے سے بچانا ہے،محض اسپتال بنانا کافی نہیں، بلکہ بیماریوں کی بروقت روک تھام سب سے اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صاف پانی کی فراہمی سے 68 فیصد اسپتالوں کا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔

انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو ویکسین ضرور پلائیں تاکہ وہ 12 خطرناک بیماریوں اور پولیو جیسی مستقل معذوری سے محفوظ رہیں۔