وفاقی وزیر محمد اورنگزیب خان کھچی کا اے پی پی کو خصوصی انٹرویو:قومی ثقافتی پالیسی 14 اگست کے بعد متعارف کرانے کا اعلان

22

اسلام آباد، 30 جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت محمد اورنگزیب خان کھچی نے اے پی پی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا  کہ حکومت پاکستان 14 اگست کے بعد ایک جامع قومی ثقافتی پالیسی متعارف کرانے جا رہی ہے، جو ملک کی ثقافتی شناخت کی بحالی، متنوع ورثے کے تحفظ اور عالمی سطح پر پاکستان کے سافٹ امیج کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

وفاقی وزیر نے اس پالیسی کو “ہماری تہذیبی شناخت، تخلیقی صلاحیتوں اور جڑوں سے جڑے رہنے کا قومی عزم” قرار دیا اور کہا کہ یہ صرف ایک دستاویز نہیں بلکہ ایک ایسا لائحہ عمل ہے جو پورے پاکستان کی ثقافتی سمت کا تعین کرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اس پالیسی کی تشکیل تمام صوبوں، ماہرینِ ثقافت، ادیبوں، فنکاروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کی جا رہی ہے۔ پالیسی کا مرکزی نکتہ پاکستان کی اصل شناخت کو اجاگر کرنا اور منفی تاثر کو رد کرنا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین قدیم تہذیبوں کی امین ہے جیسے مہرگڑھ، ہڑپہ، موہنجوداڑو اور ٹیکسلا۔ “ہماری ثقافت دنیا کی امیر ترین وراثتوں میں سے ایک ہے اور اس کو دنیا کے سامنے پیش کرنا وقت کی ضرورت ہے۔”

انہوں نے بتایا کہ فنکاروں اور ادبی حلقوں کو ادارہ جاتی معاونت فراہم کی جائے گی اور پرانے ڈھانچوں میں اصلاحات لائی جائیں گی۔ پاکستان کے 86 ممالک کے ساتھ ثقافتی معاہدے ہیں جن کی تعداد بڑھا کر 125 کی جا رہی ہے۔

اورنگزیب خان کھچی نے بتایا کہ حال ہی میں متعددممالک کے سفیروں نے پاکستان کا دورہ کیا اور ثقافتی تعاون میں دلچسپی ظاہر کی، جبکہ پاکستانی فنکاروں کے بین الاقوامی دورے بھی جاری ہیں جنہیں پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ لوک ورثہ اسلام آباد میں پاکستان کا پہلا بدھ مت ثقافتی اورمعلوماتی مرکز قائم کیا جا رہا ہےجبکہ شاہ اللہ دتہ غاروں سمیت دیگر اہم مقامات پر سہولیات اپ گریڈ کی جا رہی ہیں تاکہ مذہبی سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے یونیسکو کی عالمی ورثہ فہرست میں شمولیت کے لیے چار نئی نامزدگیاں جمع کرا دی ہیں اور اس حوالے سے حوصلہ افزا ردعمل ملا ہے۔

وزارت قومی ورثہ کی جانب سے نیشنل لائبریری، پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز، اور نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے جبکہ آثارِ قدیمہ کی سائٹس کا ڈیجیٹل نقشہ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ثقافتی اداروں کی تنظیمِ نو کے لیے ایک کمیٹی سینیٹر عرفان صدیقی کی سربراہی میں کام کر رہی ہے تاکہ ان اداروں کو موجودہ دور کی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ملک کی پہلی آرٹس ڈگری دینے والی جامعہ بھی سال کے آخر تک قائم کی جائے گی، جبکہ لوک ورثہ میں ہر عمر کے افراد کے لیے آرٹ کلاسز شروع کر دی گئی ہیں اور ابھرتے فنکاروں کو پی این سی اے میں مفت یا کم لاگت پر نمائشی جگہ فراہم کی جا رہی ہے۔

اپنے وژن کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا: “قومی ثقافتی پالیسی کے ذریعے پاکستان دنیا کو اپنی اصل کہانی سنانے جا رہا ہے – ایک ایسی کہانی جو تاریخ، تخلیق، خوبصورتی اور پرامن تہذیب پر مبنی ہے۔”