وزرائے تجارت کے اعلیٰ سطحی مذاکرات؛ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی و سرحدی تعاون بڑھانے پر اتفاق

22

اسلام آباد، 3 اگست(اے پی پی): پاکستان اور ایران نے دوطرفہ معاشی تعاون کو فروغ دینے کے لیے تجارتی، سرحدی اور باہمی اعتماد پر مبنی شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان اور ایرانی وزیر برائے صنعت، کان کنی و تجارت محمد آتابک کے مابین اتوار کو یہاں ہونے والی ملاقات کے درمیان ہوئی۔ ملاقات ایرانی صدر ڈاکٹر ابراہیم رئیسی کے دو روزہ سرکاری دورۂ پاکستان کے موقع پر ہوئی۔

اعلیٰ سطحی مذاکرات میں دونوں وزراء نے تجارت کے فروغ، سرحدی رکاوٹوں کے خاتمے اور ترجیحی شعبوں میں قابل بھروسہ تعاون کی نئی راہیں متعین کرنے پر زور دیا۔

وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان  نے زور دیا کہ جذبے اور سیاسی عزم کے بعد ہی رسمی اقدامات آتے ہیں، اور پاکستان ایران کے ساتھ معاشی تعلقات کو جوائنٹ اکنامک کمیشن (JEC)، بزنس ٹو بزنس (B2B) ملاقاتوں اور شعبہ جاتی تجارتی وفود کے ذریعے مزید مضبوط کرنے کے لیے تیار ہے۔

دونوں وزراء نے زراعت، مویشی پالنا، خدمات، توانائی، اور سرحد پار لاجسٹکس جیسے مخصوص شعبوں کی نشاندہی کو باہمی تعاون کے لیے اہم قرار دیا۔ جام کمال خان نے تجویز دی کہ وفاقی و صوبائی ایوان ہائے صنعت و تجارت کے نمائندوں پر مشتمل مرکوز تجارتی وفود تشکیل دیے جائیں تاکہ مارکیٹ تک رسائی اور قواعد و ضوابط پر مفصل بات چیت ممکن ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس ماڈل کو بیلاروس سمیت کئی ممالک میں کامیابی سے آزمایا ہے۔

دونوں وزراء نے موجودہ تجارتی راہداریوں اور سرحدی سہولیات کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر بھی اتفاق کیا۔ جام کمال خان نے علاقائی تجارت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آسیان ممالک نے کس طرح اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت کے ذریعے ترقی کی منازل طے کیں۔انہوں نے کہا کہ جغرافیہ ایک نعمت ہے۔ پاکستان اور ایران کو اس فاصلہ کے کم ہونے کے فائدے کو استعمال کرنا چاہیے۔

انہوں نے پیش گوئی کی کہ اگر دونوں ممالک اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لائیں تو باہمی تجارت آئندہ چند برسوں میں 5 سے 8 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور پاکستان کی تجارتی شراکت داری ترکی، وسطی ایشیا، روس اور مشرق وسطیٰ تک پھیل کر ایک وسیع اور طاقتور علاقائی تجارتی بلاک میں بدل سکتی ہے۔

ایرانی وزیر محمد آتابک نے ہر اعلیٰ سطحی دورے کے دوران ایک خصوصی بزنس ٹو بزنس دن مختص کرنے کی تجویز کی حمایت کی اور کہا کہ وہ ایران سے کاروباری وفود کو پاکستان لانے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے پاکستانی برآمدات میں اضافے کے لیے جاری مذاکرات کا ذکر کیا اور دونوں حکومتوں پر زور دیا کہ وہ نئے معاہدوں پر جلد از جلد عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

مذاکرات میں دونوں فریقین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور ایران کے عوام کے درمیان ثقافتی اور لسانی ہم آہنگی باہمی تعلقات کی بنیاد ہے۔ جام کمال خان نے خصوصی اکنامک فری زون کے سی ای او سے ایک حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بلوچی زبان میں بات کی، جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے روابط کی عکاسی کرتا ہے۔

 دونوں وزراء نے پاکستان-ایران جوائنٹ اکنامک کمیشن کے آئندہ اجلاس کو تیز رفتاری سے منعقد کرنے، عوامی و نجی شعبوں کی شمولیت کو یقینی بنانے اور سرحدی تعاون و تجارتی لاجسٹکس کو اولین ترجیح دینے پر اتفاق کیا۔