وزیر اعظم کا گلگت بلتستان کا دورہ ،مون سون سے متاثرہ علاقوں میں امدادی اقدامات کا جائزہ

17

گلگت، 04 اگست ( اے پی پی):  وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے ایک روزہ دورہ پر حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور جاری امدادی و بحالی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

گلگت میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ حالیہ مون سون بارشوں سے گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں جانی و مالی نقصان ہوا ہے جس پر پوری قوم افسردہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا عالمی موسمیاتی تبدیلیوں میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن اس کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

وزیرِ اعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ سیاحتی مقامات کے لیے موسم کی پیشگی اطلاع کا نظام تشکیل دیا جائے،خطرے سے دوچار علاقوں میں کلائیمیٹ ریزیلینٹ انفراسٹرکچر تعمیر کیا جائے،مقامی آبادیوں کو قدرتی پانی کی گزرگاہوں سے دور محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے اور ریسکیو و ریلیف سسٹم کو مربوط اور مؤثر بنایا جائے۔

انہوں نے محکمہ موسمیات کے پیشگی اطلاع نظام کو مزید فعال بنانے، اور این ڈی ایم اے و وزارت موسمیاتی تبدیلی کو گلگت بلتستان میں مانیٹرنگ سینٹر کے قیام کی ہدایت بھی جاری کی۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ  امدادی کارروائیوں کے دوران 600 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، تباہ شدہ سڑکوں کو بحال کیا گیا، اور متاثرہ علاقوں میں 5 خیمہ بستیاں قائم کی گئیں۔

اجلاس کو وزارت موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے جاری  (گلیشیائی جھیل پھٹنے) الرٹ سسٹم کی تنصیب پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے اس نظام کی دو ماہ میں تکمیل، وزارت موسمیاتی تبدیلی اور این ڈی ایم اے کے تعاون، اور تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کی بھی ہدایت کی۔

وزیرِ اعظم نے متاثرہ سڑکوں اور انفراسٹرکچر کی از سر نو تعمیر کو کلائیمیٹ ریزیلینٹ اصولوں کے تحت کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے وزیرِ آبی وسائل کو گلگت بلتستان میں پانی کے نظام پر منصوبہ بندی مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔