نیویارک، 6 اگست ( اے پی پی): یومِ استحصال کشمیر’ کی چھٹی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب میں مقررین نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی جائز اور قانونی جدوجہد کی پُرزور حمایت کا اظہار کیا۔ مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ جموں و کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر ممکن نہیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور نیویارک میں پاکستانی قونصل خانے کے اشتراک سے “غیر حل شدہ مسئلہ جموں و کشمیر: علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ” کے موضوع پر ہونے والی
تقریب سے خطاب میں سفیر عاصم افتخار احمد نے نے کہا کہ بھارت، کشمیری عوام کو ان کا ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت دینے سے مسلسل انکار کر رہا ہے جو متعدد اقوام متحدہ کی قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے اور اس کی بجائے آبادیاتی انجینئرنگ، غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل دینے اور انتخابی حلقہ بندیوں میں رد و بدل کے ذریعے کشمیری آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سفیر عاصم نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، قانونی اور اخلاقی حمایت پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ فوجی اشتعال انگیزی اور پاکستان کی کامیابی کے بعد بھی ہم نے کشیدگی کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دی جو کہ ہمارے ایک ذمہ دار عالمی رکن ہونے کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بھارت کو نہ صرف عسکری شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ عالمی سطح پر رسوائی بھی ہوئی، وہیں پاکستان نے متفقہ طور پر سلامتی کونسل میں “تنازعات کے پرامن حل” سے متعلق اپنی قرارداد کی منظوری کے ذریعے ایک بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ قرارداد نہ صرف مسئلہ کشمیر اور فلسطین جیسے حل طلب تنازعات پر عالمی توجہ مرکوز کرنے کا باعث بنی بلکہ اقوام متحدہ کے منشور کے تحت تمام ممالک کو تنازعات کے پرامن حل کی اپنی ذمہ داریوں کی یاددہانی بھی کرائی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ اور او آئی سی کے درمیان تعاون سے متعلق پاکستان کے زیرِ اہتمام دوسرا اہم اجلاس، او آئی سی کی جانب سے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مسلسل حمایت اور تنازعات کے پرامن حل پر زور دینے کا مظہر تھا۔
پاکستان کے سفیر نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا 5 اگست 2019 کے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے بعد مسئلہ جموں و کشمیر کو متنازعہ قرار دینا ایک بروقت اور اہم پیش رفت تھی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا یہ مؤقف پاکستان کے مؤقف سے مکمل مطابقت رکھتا ہے جو اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں اور کشمیری عوام کی مرضی پر مبنی ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ ہر آزادی کی تحریک مختلف مراحل سے گزرتی ہے جو قربانی، اتحاد اور ثابت قدمی کا امتحان ہوتے ہیں۔ کشمیری عوام نے مثالی جرات، قربانی اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ کشمیری تنہا نہیں ہیں۔ پاکستان ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور جب تک انہیں انصاف اور ان کی جائز امنگوں کی تکمیل نہیں ملتی، ہم اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔
اپنے ابتدائی کلمات میں، قونصل جنرل عامر احمد اتاؤزی نے بھارتی قابض افواج کے خلاف کشمیری عوام کی جرات مندانہ جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ظلم و ستم کے باوجود کشمیریوں کا حوصلہ پست نہیں ہوا۔ ان کی مزاحمت ایک طاقتور مثال ہے، اور ان کا غیر متزلزل مطالبہ برائے وقار، انصاف اور آزادی دنیا بھر کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو یہ جان لینا چاہیے کہ جموں و کشمیر بھارت کا داخلی معاملہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے جو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے۔
او آئی سی کے اقوام متحدہ میں مستقل مبصر، سفیر حامد اوپیلویرو نے کہا کہ او آئی سی کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے ان کے جائز اور قانونی جدوجہد میں ان کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی نے ہمیشہ عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسئلہ جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ کے منشور، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرے۔
انہوں نے کہا کہ او آئی سی کا یقین ہے کہ مسئلہ کشمیر ہی جنوبی ایشیا میں مستقل کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے۔ ورلڈ کشمیر اویئرنیس فورم کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر بین الاقوامی بیانیہ مزید تبدیل ہو چکا ہے، صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر اب نہ صرف ایک عالمی مسئلہ بلکہ جنوبی ایشیا کا ایک تسلیم شدہ جوہری فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ مسئلہ کشمیر کے کسی بھی بامعنی حل میں کشمیری عوام کو، بطور بنیادی فریق، شامل کرنا ہوگا۔معروف صحافی اور ماہر تعلیم ڈاکٹر عبد الحمید سیام نے کہا کہ کشمیری اور فلسطینی عوام کی آزادی کی جدوجہد آپس میں جڑی ہوئی ہیں ، دونوں جدوجہد حقِ خودارادیت اور غیر ملکی قبضے کے خلاف مزاحمت پر مبنی ہیں۔
ڈاکٹر آصف الرحمٰن، کشمیری کمیونٹی کے نمائندے نے کہا کہ IIOJK تقسیمِ ہند کا ایک حل طلب مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں تک کشمیری اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے انصاف کی امید کرتے رہے،
انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کے منشور کے اصول خاص طور پر حقِ خودارادیت اور پرامن حل مسئلہ کشمیر کے حل کا واحد راستہ ہیں۔
تقریب کے آغاز میں صدر، وزیراعظم، اور نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ پاکستان کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان مشن کی سیکنڈ سیکریٹری رابعہ اعجاز نے تقریب کی نظامت کے فرائض انجام دیے۔











