لاہور، 21 اگست (اے پی پی): صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کی زیر صدارت یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز کا 14 واں سینڈیکیٹ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وائس چانسلر پروفیسر مسعود صادق، پروفیسر ساجد مقبول، ایڈیشنل سیکرٹری میڈیکل ایجوکیشن سدرہ سلیم، پرو وائس چانسلر پروفیسر جنید رشید، ایم ڈی پروفیسر ٹیپو سلطان سمیت دیگر ممبران نے شرکت کی جبکہ وڈیو لنک کے ذریعے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر احسن وحید راٹھور اور دیگر ممبران بھی شریک ہوئے۔ قائم مقام رجسٹرار پروفیسر عابد قریشی نے اجلاس کا ایجنڈا پیش کیا۔ اجلاس میں 13 ویں سینڈیکیٹ اجلاس کے فیصلوں کی توثیق اور ان پر عملدرآمد رپورٹ پیش کی گئی۔ اس موقع پر یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز کے بجٹ برائے مالی سال 26-2025، مختلف آسامیوں پر بھرتی، تین پوسٹوں پر تعیناتی میں توسیع اور گیارہ نئی اسامیوں پر تعیناتی کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی اور اکیڈمک کونسل کے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی۔ صوبائی وزیر صحت نے یونیورسٹی کی مین بلڈنگ کی تعمیر پر آئی ڈیپ کے حکام سے پیش رفت رپورٹ لی جبکہ چلڈرن ہسپتال ٹو پر جاری ترقیاتی کام پر بھی بریفنگ دی گئی۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ پنجاب حکومت یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز کی استعداد بڑھا رہی ہے اور اس درسگاہ کو پیڈیاٹرک نرسز بنانے والی پاکستان کی پہلی طبی یونیورسٹی ہونے پر فخر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی درسگاہوں کے سینڈیکیٹ اجلاس متواتر کروانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ سرکاری ہسپتالوں کے مسائل حل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ٹیکسوں سے قائم سرکاری ہسپتالوں کو صحت کی بہترین علاج گاہیں بنانا حکومت کا عزم ہے جبکہ پنجاب کی تمام طبی درسگاہوں میں معیاری ریسرچ کو فروغ دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔











